حدیث نمبر: 2132
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ نُعَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ : بَصْرَةُ بْنُ أَكْثَمَ نَكَحَ امْرَأَةً ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ ، زَادَ وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا ، وَحَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ أَتَمُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ` بصرہ بن اکثم نامی ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا پھر راوی نے اسی مفہوم کی روایت نقل کی لیکن اس میں اتنا زیادہ ہے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان جدائی کرا دی “ اور ابن جریج والی روایت زیادہ کامل ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب النكاح / حدیث: 2132
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف وحديث ابن جريج أتم , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, السند مرسل،سعيد بن المسيب رحمه اللّٰه من كبار التابعين (انظر التقريب : 2396), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 81
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: 2124، 18756) (ضعیف) » (اس کے راوی یزید بن نعیم لین الحدیث ہیں )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´آدمی کسی عورت سے شادی کرے اور اسے حاملہ پائے تو کیا کرے؟`
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ بصرہ بن اکثم نامی ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا پھر راوی نے اسی مفہوم کی روایت نقل کی لیکن اس میں اتنا زیادہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان جدائی کرا دی اور ابن جریج والی روایت زیادہ کامل ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2132]
فوائد ومسائل:
یہ دونوں روایات مرسل ہیں، مرفوعا صحیح نہیں ہیں تاہم مسائل کا حل تقریبا یہی ہے۔
(الف) اس قسم کی صورت حال میں کہ انسان اپنی منکوحہ کو حاملہ پائے تو ان میں تفریق کرادی جائے گی اور شوہر نے اگراس سے مباشرت کر لی تو اس کی وجہ سے اسے حق مہر (یا مثل) دینا پڑے گا۔
(ب) اس عورت پر حد لازم آئے گی۔
(ج) ولد الزنا کو معروف معنی میں غلام (عبد) ہونے کا کسی فقیہ نے نہیں کہا۔
الا یہ اسےاس دور کی بات تسلیم کی جائے جبکہ غلامی کا دور باقی تھا، ہاں اس کے بچے کی حسن تعلیم وتربیت کی تاکید ہے اور وہ اپنے مربی کا احسان مند اور خد متگار ہو گا۔
(واللہ اعلم)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2132 سے ماخوذ ہے۔