حدیث نمبر: 2131
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ الْمَعْنَى ، قَالُوا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ ، قَالَ ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَقُلْ مِنْ الْأَنْصَارِ ، ثُمَّ اتَّفَقُوا ، يُقَالُ لَهُ : بَصْرَةُ ، قَالَ : تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً بِكْرًا فِي سِتْرِهَا ، فَدَخَلْتُ عَلَيْهَا فَإِذَا هِيَ حُبْلَى ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَهَا الصَّدَاقُ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا وَالْوَلَدُ عَبْدٌ لَكَ ، فَإِذَا وَلَدَتْ ، قَالَ الْحَسَنُ : فَاجْلِدْهَا ، وقَالَ ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ : فَاجْلِدُوهَا ، أَوْ قَالَ : فَحُدُّوهَا " . قَالَ أَبُو دَاوُد : رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ قَتَادَةُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ نُعَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، وَ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَرْسَلُوهُ كُلُّهُمْ ، وَفِي حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَنَّ بَصْرَةَ بْنَ أَكْثَمَ نَكَحَ امْرَأَةً ، وَكُلُّهُمْ قَالَ فِي حَدِيثِهِ : جَعَلَ الْوَلَدَ عَبْدًا لَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´بصرہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے ایک کنواری پردہ نشین عورت سے نکاح کیا ، میں اس کے پاس گیا ، تو اسے حاملہ پایا تو اس کے متعلق اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس کی شرمگاہ کو حلال کرنے کے عوض تمہیں مہر ادا کرنا پڑے گا ، اور ( پیدا ہونے والا ) بچہ تمہارا غلام ہو گا ، اور جب وہ بچہ جن دے - ( حسن کی روایت میں ) ” تو تو اسے کوڑے لگا “ ( واحد کے صیغہ کے ساتھ ) اور ابن السری کی روایت میں تو تم اسے کوڑے لگاؤ ( جمع کے صیغہ کے ساتھ ) “ ، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس پر حد جاری کرو “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس حدیث کو قتادہ نے سعید بن زید سے انہوں نے ابن مسیب سے روایت کیا ہے نیز اسے یحییٰ ابن ابی کثیر نے یزید بن نعیم سے ، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور عطاء خراسانی نے سعید بن مسیب سے روایت کیا ہے سبھی لوگوں نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے ۔ اور یحییٰ ابن ابی کثیر کی روایت میں ہے کہ بصرہ بن اکثم نے ایک عورت سے نکاح کیا اور سبھی لوگوں کی روایت میں ہے : ” آپ نے لڑکے کو ان کا غلام بنا دیا “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب النكاح / حدیث: 2131
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن جريج عنعن, وسمعه من إبراهيم بن أبي يحيي عن صفوان به كما حققه أبو حاتم وغيره و إبراهيم بن محمد بن أبي يحيي ھذا متروك (تقريب التهذيب: 241) و قال البيهقي : مختلف في ثقته ضعفه أكثر أهل العم بالحديث و طعنوا فيه…(السنن الكبري 249/1) و قال العيني : ضعفه الجمهور(عمدة القاري 82/11), و قال ابن حجر : شيخ الشافعي،ضعفه الجمهور(طبقات المدلسين 5/129), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 81
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: 2024 و 18756) (ضعیف) » (اس کے راوی ابن جریج مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں)