حدیث نمبر: 2130
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَفَّأَ الْإِنْسَانَ إِذَا تَزَوَّجَ ، قَالَ : " بَارَكَ اللَّهُ لَكَ وَبَارَكَ عَلَيْكَ وَجَمَعَ بَيْنَكُمَا فِي خَيْرٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی شخص کو شادی کی مبارکباد دیتے تو فرماتے : «بارك الله لك وبارك عليك وجمع بينكما في خير» ” اللہ تعالیٰ تم کو برکت دے اور اس برکت کو قائم و دائم رکھے ، اور تم دونوں کو خیر پر جمع کر دے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب النكاح / حدیث: 2130
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (2445), أخرجه الترمذي (1091 وسنده صحيح)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/النکاح 7 (1091)، سنن ابن ماجہ/النکاح 23 (1905)، سنن النسائی/ الیوم واللیلة (259)، ( تحفة الأشراف: 12698)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/381)، سنن الدارمی/النکاح 6 (2219) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 1091 | سنن ابن ماجه: 1905 | بلوغ المرام: 828

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´دولہا کو کیا دعا دے؟`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی شخص کو شادی کی مبارکباد دیتے تو فرماتے: «بارك الله لك وبارك عليك وجمع بينكما في خير» اللہ تعالیٰ تم کو برکت دے اور اس برکت کو قائم و دائم رکھے، اور تم دونوں کو خیر پر جمع کر دے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2130]
فوائد ومسائل:
خوشی کے ان مواقع پر اس طرح کی پاکيزہ اور مسنون دعا مبارکباد دينی چاہيے جو کہ الفت مودت اور اضافہ کے ظاہری وباطنی تمام معاني کو محيط ہے؟
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2130 سے ماخوذ ہے۔