حدیث نمبر: 2120
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْعَلَاءِ ابْنَ أَخِي شُعَيْبٍ الرَّازِيِّ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ ، قَالَ : " خَطَبْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَامَةَ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَأَنْكَحَنِي مِنْ غَيْرِ أَنْ يَتَشَهَّدَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´بنی سلیم کے ایک شخص کہتے ہیں` میں نے امامہ بنت عبدالمطلب سے نکاح کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پیغام بھیجا تو آپ نے بغیر خطبہ پڑھے ان سے میرا نکاح کر دیا ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب النكاح / حدیث: 2120
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, ضعيف, إسماعيل بن إبراهيم : مجهول،(تقريب التهذيب: 422), وسمع من رجل عن العلاء به والرجل إسحاق بن عبد اللّٰه كما في ھامش التاريخ الكبير للبخاري (343/1), وللحديث شاهد ’’ إسناده مجهول ‘‘, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 80
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: 15530) (ضعیف) » (اس کے راوی العلاء لین الحدیث ، اور اسماعیل مجہول ہیں)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´خطبہ نکاح کا بیان۔`
بنی سلیم کے ایک شخص کہتے ہیں میں نے امامہ بنت عبدالمطلب سے نکاح کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پیغام بھیجا تو آپ نے بغیر خطبہ پڑھے ان سے میرا نکاح کر دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2120]
فوائد ومسائل:
یہ روایت ضعیف ہے لیکن یہ بات دوسری روایات سے ثابت ہے کہ نکاح خطبے کے بغیر بھی جائز ہے، کیونکہ نکاح کے لئے صرف ولی کی اجازت دو گواہوں کی موجودگی اور ایجاب وقبول ضروری ہے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2120 سے ماخوذ ہے۔