حدیث نمبر: 212
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكَّارٍ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ حَرَامِ بْنِ حَكِيمٍ ،عَنْ عَمِّهِ ، " أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَحِلُّ لِي مِنَ امْرَأَتِي وَهِيَ حَائِضٌ ، قَالَ : لَكَ مَا فَوْقَ الْإِزَارِ " ، وَذَكَرَ مُؤَاكَلَةَ الْحَائِضِ أَيْضًا ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن سعد انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : جب میری بیوی حائضہ ہو تو اس کی کیا چیز میرے لیے حلال ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے لیے لنگی ( تہبند ) کے اوپر والا حصہ درست ہے “ ، نیز اس کے ساتھ حائضہ کے ساتھ کھانے کھلانے کا بھی ذکر کیا ، پھر راوی نے ( سابقہ ) پوری حدیث بیان کی ۔
وضاحت:
عورت جب مخصوص ایام میں ہو تو زوجین کے لیے خاص جنسی عمل حرام ہے۔ تاہم اکٹھے کھا پی، اٹھ بیٹھ اور لیٹ سکتے ہیں۔ اسی کو آپ نے «ما فوق الإزار» ” تہہ بند سے اوپر “ سے تعبیر فرمایا ہے اور ظاہر ہے کہ اس سے مذی کا اخراج ہو گا تو غسل واجب نہ ہو گا۔ ہاں اگر منی نکل آئے تو غسل کرنا پڑے گا۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 133 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´حائضہ کے ساتھ کھانے اور اس کے جھوٹے کا بیان۔`
عبداللہ بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے حائضہ کے ساتھ کھانے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ” اس کے ساتھ کھاؤ “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 133]
عبداللہ بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے حائضہ کے ساتھ کھانے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ” اس کے ساتھ کھاؤ “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 133]
اردو حاشہ:
1؎:
یہ حدیث آیت کریمہ: ﴿فَاعْتَزِلُواْ النِّسَاء فِي الْمَحِيضِ﴾ [ البقرة: 222] کے معارض نہیں کیونکہ آیت میں جدا رہنے سے مراد وطی سے جدا رہنا ہے۔
1؎:
یہ حدیث آیت کریمہ: ﴿فَاعْتَزِلُواْ النِّسَاء فِي الْمَحِيضِ﴾ [ البقرة: 222] کے معارض نہیں کیونکہ آیت میں جدا رہنے سے مراد وطی سے جدا رہنا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 133 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 651 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´حائضہ عورت کے ساتھ کھانے کا بیان۔`
عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حائضہ کے ساتھ کھانے کے متعلق پوچھا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اس کے ساتھ کھاؤ۔“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 651]
عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حائضہ کے ساتھ کھانے کے متعلق پوچھا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اس کے ساتھ کھاؤ۔“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 651]
اردو حاشہ:
اس مسئلہ کی وضاحت حدیث: 643 کے تحت گزرچکی ہے۔
اس مسئلہ کی وضاحت حدیث: 643 کے تحت گزرچکی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 651 سے ماخوذ ہے۔