حدیث نمبر: 2106
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي الْعَجْفَاءِ السُّلَمِيِّ ، قَالَ : خَطَبَنَا عُمَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ ، فَقَالَ : " أَلَا لَا تُغَالُوا بِصُدُقِ النِّسَاءِ ، فَإِنَّهَا لَوْ كَانَتْ مَكْرُمَةً فِي الدُّنْيَا أَوْ تَقْوَى عِنْدَ اللَّهِ لَكَانَ أَوْلَاكُمْ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مَا أَصْدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِ ، وَلَا أُصْدِقَتِ امْرَأَةٌ مِنْ بَنَاتِهِ أَكْثَرَ مِنْ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوعجفاء سلمی کہتے ہیں کہ` عمر رضی اللہ عنہ نے ، اللہ ان پر رحم کرے ، ہمیں خطاب فرمایا اور کہا : خبردار ! عورتوں کے مہر بڑھا چڑھا کر مت باندھو اس لیے کہ اگر یہ ( مہر کی زیادتی ) دنیا میں باعث شرف اور اللہ کے یہاں تقویٰ اور پرہیزگاری کا ذریعہ ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے زیادہ حقدار تھے ، آپ نے تو اپنی کسی بھی بیوی اور بیٹی کا بارہ اوقیہ ( چار سو اسی درہم ) سے زیادہ مہر نہیں رکھا ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب النكاح / حدیث: 2106
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن, مشكوة المصابيح (3204), أخرجه الترمذي (1114م، وسنده حسن)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/النکاح 23 (1114)، سنن النسائی/النکاح 66 (3351)، سنن ابن ماجہ/النکاح 17 (1887)، (تحفة الأشراف: 10655)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/41،48)، سنن الدارمی/النکاح 18 (2246) (حسن صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 1114