حدیث نمبر: 2097
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ . قَالَ أَبُو دَاوُد : لَمْ يَذْكُرْ ابْنَ عَبَّاسٍ ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ النَّاسُ مُرْسَلًا مَعْرُوفٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے عکرمہ سے یہ حدیث مرسلاً مروی ہے` ابوداؤد کہتے ہیں : اس روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر نہیں ہے ، اس روایت کا اسی طرح لوگوں کا مرسلاً روایت کرنا ہی معروف ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب النكاح / حدیث: 2097
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: حسن, انظر الحديث السابق (2096)
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، ( تحفة الأشراف: 6001، 19103) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´کنواری لڑکی کا نکاح اس سے پوچھے بغیر اس کا باپ کر دے تو کیا حکم ہے؟`
اس سند سے عکرمہ سے یہ حدیث مرسلاً مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: اس روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر نہیں ہے، اس روایت کا اسی طرح لوگوں کا مرسلاً روایت کرنا ہی معروف ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2097]
فوائد ومسائل:
باپ کو روا نہیں کہ جوان بیٹی کا عندیہ لیے بغیر اس کا نکاح کر دے، جبر کی صورت میں اسے حق حاصل ہے کہ قاضی کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کر دے اور قاضی تحقیق احوال کے بعد شرعی تقاضوں کے مطابق فیصلہ دے۔
اگر باپ ولی کا فیصلہ بے محل ہو تو قاضی ایسے نکاح کو فسخ کر سکتا ہے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2097 سے ماخوذ ہے۔