حدیث نمبر: 2095
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، حَدَّثَنِي الثِّقَةُ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " آمِرُوا النِّسَاءَ فِي بَنَاتِهِنَّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عورتوں سے ان کی بیٹیوں کے بارے میں مشورہ لو “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب النكاح / حدیث: 2095
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, الثقة : لم أعرفه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 79
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: 8598)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/34) (ضعیف) » (اس کی سند میں ایک راوی الثقة مبہم ہے)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´نکاح کے وقت لڑکی سے اجازت لینے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتوں سے ان کی بیٹیوں کے بارے میں مشورہ لو۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2095]
فوائد ومسائل:
یہ اثر سندًا کمزور ہے مگر حقیقت یہی ہے کہ مائیں اپنی بچیوں کی بہت عمدہ راز دار ہوتی ہیں اور پچیاں بالعموم اپنے دل کی بات ماؤں کے سامنے پیش کردیتی ہیں اور مذکورہ بالا نبوی ارشادات اسلام میں عورتوں کے حقوق کی اہمیت کی عظیم دلیل ہیں، جو اسلام نے انہیں ڈیڑھ ہزار سال پہلے پہ عطا فرما دیے ہوئے ہیں۔
نام نہاد تہذیب نو نے ان کو کیا حقوق دینے ہیں؟ یہ تو انہیں بے لباس کرنے اور بکاؤ مال (شوپیس) بنانے پر تلی ہوئی ہیں۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2095 سے ماخوذ ہے۔