سنن ابي داود
كتاب النكاح— کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
باب فِي الاِسْتِئْمَارِ باب: نکاح کے وقت لڑکی سے اجازت لینے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو بِهَذَا الْحَدِيثِ بِإِسْنَادِهِ ، زَادَ فِيهِ : قَالَ : " فَإِنْ بَكَتْ أَوْ سَكَتَتْ " ، زَادَ : بَكَتْ . قَالَ أَبُو دَاوُد : وَلَيْسَ بَكَتْ بِمَحْفُوظٍ ، وَهُوَ وَهْمٌ فِي الْحَدِيثِ ، الْوَهْمُ مِنْ ابْنِ إِدْرِيسَ أَوْ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَلَاءِ . قَالَ أَبُو دَاوُد : وَرَوَاهُ أَبُو عَمْرٍو ذَكْوَانُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ الْبِكْرَ تَسْتَحِي أَنْ تَتَكَلَّمَ قَالَ : " سُكَاتُهَا إِقْرَارُهَا " .
´اس سند سے بھی محمد بن عمرو سے اسی طریق سے یہی حدیث یوں مروی ہے` اس میں «فإن بكت أو سكتت» ” اگر وہ رو پڑے یا چپ رہے “ یعنی «بكت» ( رو پڑے ) کا اضافہ ہے ، ابوداؤد کہتے ہیں «بكت» ( رو پڑے ) کی زیادتی محفوظ نہیں ہے یہ حدیث میں وہم ہے اور یہ وہم ابن ادریس کی طرف سے ہے یا محمد بن علاء کی طرف سے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ابوعمرو ذکوان نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے اس میں ہے انہوں نے کہا اللہ کے رسول ! باکرہ تو بولنے سے شرمائے گی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کی خاموشی ہی اس کی رضا مندی ہے “ ۔