حدیث نمبر: 2091
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ شَبُّوَيْهِ الْمَرْوَزِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ عِيسَى بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ مَوْلَى عُمَرَ ، عَنْ الضَّحَّاكِ بِمَعْنَاهُ ، قَالَ : فَوَعَظَ اللَّهُ ذَلِكَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ضحاک سے بھی اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے` اس میں ہے : تو اللہ تعالیٰ نے اس کی نصیحت فرمائی ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب النكاح / حدیث: 2091
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح لغيره , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, عبيداللّٰه مولي عمر بن سالم الباھلي مجھول الحال وثقه ابن حبان وحده, والحديث السابق (الأصل : 2090) يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 79
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´آیت کریمہ «لا يحل لكم أن ترثوا النساء كرها ولا تعضلوهن» کی تفسیر۔`
ضحاک سے بھی اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں ہے: تو اللہ تعالیٰ نے اس کی نصیحت فرمائی۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2091]
فوائد ومسائل:
بیوہ عورت کا بالجبر نکاح نہیں کیا جا سکتا، اس کا عندیہ لینا، جس میں صراحت ہو، ضروری ہے، جیسے کہ اگلے ابواب میں آرہا ہے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2091 سے ماخوذ ہے۔