حدیث نمبر: 2064
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ حَجَّاجٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا يُذْهِبُ عَنِّي مَذَمَّةَ الرَّضَاعَةِ ؟ قَالَ : " الْغُرَّةُ الْعَبْدُ أَوِ الْأَمَةُ " . قَالَ النُّفَيْلِيُّ : حَجَّاجُ بْنُ حَجَّاجٍ الْأَسْلَمِيُّ ، وَهَذَا لَفْظُهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´حجاج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! دودھ پلانے کا حق مجھ سے کس طرح ادا ہو گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لونڈی یا غلام ( دودھ پلانے والی کو خدمت کے لیے دے دینے ) سے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب النكاح / حدیث: 2064
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: حسن, مشكوة المصابيح (3174), أخرجه الترمذي (1153 وسنده حسن) والنسائي (3331 وسنده حسن) وللحديث شواھد انظر مجمع الزوائد (4/262)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الرضاع 6 (1153)، سنن النسائی/النکاح 56 (3331)، (تحفة الأشراف: 3295)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/450)، سنن الدارمی/النکاح 50 (2300) (ضعیف) » (اس کے راوی حجاج بن حجاج بن مالک لین الحدیث ہیں)
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 3331 | سنن ترمذي: 1153 | مسند الحميدي: 901

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´دودھ چھڑانے کے وقت دودھ پلانے والی کو انعام دینے کا بیان۔`
حجاج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! دودھ پلانے کا حق مجھ سے کس طرح ادا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " لونڈی یا غلام (دودھ پلانے والی کو خدمت کے لیے دے دینے) سے۔‏‏‏‏" [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2064]
فوائد ومسائل:
عربوں میں یہ رواج تھا کہ اپنے بچوں کو دودھ پلانے کے لئے قرب وجوار کے دیہاتوں میں اجرت پر بھیج دیا کرتےتھے، علاوہ ازیں وہ مقررہ اجرت کے علاوہ دودہ چھڑانے پر (مرضبعہ) دودھ پلانے والی انا کو کوئی انعام دینا بھی پسند کرتے تھے، اس حدیث میں اسی کا حق مرضعہ کی بابت بیان کیا گیا ہے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2064 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3331 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´رضاعت کے حق و احترام کا بیان۔`
حجاج رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: رضاعت کے حق کی ادائیگی کی ذمہ داری سے مجھے کیا چیز عہدہ بر آ کر سکتی ہے؟ آپ نے فرمایا: " شریف غلام یا شریف لونڈی ۱؎۔‏‏‏‏" [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3331]
اردو حاشہ: (1) حقیقی والدہ کا حق تو ادا ہی نہیں ہوسکتا‘ البتہ جس کا دودھ پیا ہو‘ اسے خدمت لے لیے غلام یا لونڈی دے دیے جائیں تو حق ادا ہوجائے گا۔ جس طرح ا س نے اس کی بچپن میں خدمت کی تھی‘ اسی طرح یہ غلام یا لونڈی اس کی خدمت کریں گے۔ یہ تو صرف خدمت کا معاوضہ ہے۔ باقی رہے شفقت اور محبت جو رضاعی والدہ نے اس کے ساتھ کی تھی‘ ا س کے عوض تا حیات اس کا احترام کرے اور اسے اپنی ایک ماں سمجھے‘ جیسے رسول اللہﷺ نے ام یمنؓ کے بارے میں فرمایا:[أُمُّ أَیْمَنَ أُمِّیی بَعْدَ أُمِّیی] (اسد الغابة: رقم: 7371)
(2) آدمی کو احسان فراموش نہیں ہونا چاہیے بلکہ صاحب احسان یاد رکھنا چاہیے اور اگر ممکن ہو تو اسے اس کا بدلہ دینا چاہیے اور اگر استطاعت نہ ہو تو اس کے حق میں دعا گو رہنا چاہیے۔
(3) صحابہ کرام رضی اللہ عنھم احکام دین سمجھنے پر بہت حریص تھے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3331 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1153 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´حق رضاعت کس چیز سے ادا ہوتا ہے۔`
حجاج اسلمی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اللہ کے رسول! مجھ سے حق رضاعت کس چیز سے ادا ہو گا؟ آپ نے فرمایا: " ایک جان: غلام یا لونڈی کے ذریعہ سے۔‏‏‏‏" [سنن ترمذي/كتاب الرضاع/حدیث: 1153]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(اس کے راوی ’’حجاج بن حجاح‘‘ تابعی ضعیف ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1153 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 901 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
901-حجاج اسلمی اپنے والد کایہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! رضاعت کی وجہ سے لازم ہونے کے حق کو کون سی چیز ختم کردیتی ہے؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پیشانی، یعنی غلام یا کنیز (کو رضا عت کے معاوضے کے طور پرادا کرنا چاہیے) [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:901]
فائدہ:
۔ اس حدیث میں رضاعت (وہ عورت جس نے کسی دوسرے بچے کو دودھ پلایا ہے) کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 900 سے ماخوذ ہے۔