سنن ابي داود
كتاب النكاح— کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
باب فِي رَضَاعَةِ الْكَبِيرِ باب: بڑی عمر والے کی رضاعت کا حکم۔
حدیث نمبر: 2059
حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ مُطَهَّرٍ ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَهُمْ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنٍ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : " لَا رِضَاعَ إِلَّا مَا شَدَّ الْعَظْمَ وَأَنْبَتَ اللَّحْمَ " . فَقَالَ أَبُو مُوسَى : لَا تَسْأَلُونَا وَهَذَا الْحَبْرُ فِيكُمْ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا` رضاعت وہی ہے جو ہڈی کو مضبوط کرے اور گوشت بڑھائے ، تو ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا : اس عالم کی موجودگی میں تم لوگ ہم سے مسئلہ نہ پوچھا کرو ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´بڑی عمر والے کی رضاعت کا حکم۔`
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا رضاعت وہی ہے جو ہڈی کو مضبوط کرے اور گوشت بڑھائے، تو ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: اس عالم کی موجودگی میں تم لوگ ہم سے مسئلہ نہ پوچھا کرو۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2059]
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا رضاعت وہی ہے جو ہڈی کو مضبوط کرے اور گوشت بڑھائے، تو ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: اس عالم کی موجودگی میں تم لوگ ہم سے مسئلہ نہ پوچھا کرو۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2059]
فوائد ومسائل:
1۔
اس حدیث کا بھی وہی مطلب ہے جو اس سے پہلی حدیث کا تھا یعنی دودھ شیرخوارگی کے ایام میں پیا جائے تو اس کا اعتبار ہوگا اور اس مقدار میں پیے جس سے اس کو جسمانی فائدہ ہو 2۔
علم میں فاض وفائق شخصیت کے ہوتے ہوئے ادنیٰ کو فتویٰ دینا ان کے اعزاز واکرام کا یہی تقاضا ہے۔
1۔
اس حدیث کا بھی وہی مطلب ہے جو اس سے پہلی حدیث کا تھا یعنی دودھ شیرخوارگی کے ایام میں پیا جائے تو اس کا اعتبار ہوگا اور اس مقدار میں پیے جس سے اس کو جسمانی فائدہ ہو 2۔
علم میں فاض وفائق شخصیت کے ہوتے ہوئے ادنیٰ کو فتویٰ دینا ان کے اعزاز واکرام کا یہی تقاضا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2059 سے ماخوذ ہے۔