حدیث نمبر: 2059
حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ مُطَهَّرٍ ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَهُمْ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنٍ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : " لَا رِضَاعَ إِلَّا مَا شَدَّ الْعَظْمَ وَأَنْبَتَ اللَّحْمَ " . فَقَالَ أَبُو مُوسَى : لَا تَسْأَلُونَا وَهَذَا الْحَبْرُ فِيكُمْ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا` رضاعت وہی ہے جو ہڈی کو مضبوط کرے اور گوشت بڑھائے ، تو ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا : اس عالم کی موجودگی میں تم لوگ ہم سے مسئلہ نہ پوچھا کرو ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب النكاح / حدیث: 2059
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, أبو موسي الھلالي مجھول وأبوه مجھول كما قال أبو حاتم الرازي (الجرح والتعديل 9/ 438), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 78
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: 9638)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/432) (ضعیف) » (اس کے رواة : ابوموسی ہلالی، ان کے والد مجہول اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے بیٹے مبہم ہیں)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´بڑی عمر والے کی رضاعت کا حکم۔`
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا رضاعت وہی ہے جو ہڈی کو مضبوط کرے اور گوشت بڑھائے، تو ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: اس عالم کی موجودگی میں تم لوگ ہم سے مسئلہ نہ پوچھا کرو۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2059]
فوائد ومسائل:

اس حدیث کا بھی وہی مطلب ہے جو اس سے پہلی حدیث کا تھا یعنی دودھ شیرخوارگی کے ایام میں پیا جائے تو اس کا اعتبار ہوگا اور اس مقدار میں پیے جس سے اس کو جسمانی فائدہ ہو 2۔
علم میں فاض وفائق شخصیت کے ہوتے ہوئے ادنیٰ کو فتویٰ دینا ان کے اعزاز واکرام کا یہی تقاضا ہے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2059 سے ماخوذ ہے۔