سنن ابي داود
كتاب المناسك— کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل
باب زِيَارَةِ الْقُبُورِ باب: قبروں کی زیارت کا بیان۔
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْنٍ الْمَدَنِيُّ ، أَخْبَرَنِي دَاوُدُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ رَبِيعَةَ يَعْنِي ابْنَ الْهُدَيْرِ ، قَالَ : مَا سَمِعْتُ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَدِيثًا قَطُّ غَيْرَ حَدِيثٍ وَاحِدٍ ، قَالَ : قُلْتُ : وَمَا هُوَ ؟ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ قُبُورَ الشُّهَدَاءِ ، حَتَّى إِذَا أَشْرَفْنَا عَلَى حَرَّةِ وَاقِمٍ ، فَلَمَّا تَدَلَّيْنَا مِنْهَا وَإِذَا قُبُورٌ بِمَحْنِيَّةٍ ، قَالَ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَقُبُورُ إِخْوَانِنَا هَذِهِ ؟ قَالَ : " قُبُورُ أَصْحَابِنَا " فَلَمَّا جِئْنَا قُبُورَ الشُّهَدَاءِ ، قَالَ : " هَذِهِ قُبُورُ إِخْوَانِنَا " .
´ربیعہ بن ہدیر کہتے ہیں کہ` میں نے طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کو سوائے اس ایک حدیث کے کوئی اور حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے نہیں سنا ، میں نے عرض کیا : وہ کون سی حدیث ہے ؟ تو انہوں نے کہا : ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ، آپ شہداء کی قبروں کا ارادہ رکھتے تھے جب ہم حرۂ واقم ( ایک ٹیلے کا نام ہے ) پر چڑھے اور اس پر سے اترے تو دیکھا کہ وادی کے موڑ پر کئی قبریں ہیں ، ہم نے پوچھا : اللہ کے رسول ! کیا ہمارے بھائیوں کی قبریں یہی ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہمارے صحابہ کی قبریں ہیں ۱؎ “ ، جب ہم شہداء کی قبروں کے پاس پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ ہمارے بھائیوں کی قبریں ہیں ۲؎ “ ۔
۲؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اخوت کی نسبت ان کی طرف کی یہ ان کے لئے بڑے شرف کی بات ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
ربیعہ بن ہدیر کہتے ہیں کہ میں نے طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کو سوائے اس ایک حدیث کے کوئی اور حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے نہیں سنا، میں نے عرض کیا: وہ کون سی حدیث ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، آپ شہداء کی قبروں کا ارادہ رکھتے تھے جب ہم حرۂ واقم (ایک ٹیلے کا نام ہے) پر چڑھے اور اس پر سے اترے تو دیکھا کہ وادی کے موڑ پر کئی قبریں ہیں، ہم نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا ہمارے بھائیوں کی قبریں یہی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " ہمارے صحابہ کی قبریں ہیں ۱؎ "، جب ہم شہداء کی قبروں کے پاس پہنچ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2043]
رسول اللہ ﷺ موقع بموقع شہداء کی قبروں پر جایا کرتے تھے اور ان کے لئے دعایئں فرماتے تھے آپ نے شہداء کو اپنے بھائی ہونے کے لقب سے مشرف فرمایا اور دوسروں کو اپنے اصحاب کہا۔