حدیث نمبر: 2038
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ ، عَنْ مَوْلًى لِسَعْدٍ ، أَنَّ سَعْدًا وَجَدَ عَبِيدًا مِنْ عَبِيدِ الْمَدِينَةِ يَقْطَعُونَ مِنْ شَجَرِ الْمَدِينَةِ ، فَأَخَذَ مَتَاعَهُمْ ، وَقَالَ يَعْنِي لِمَوَالِيهِمْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى أَنْ يُقْطَعَ مِنْ شَجَرِ الْمَدِينَةِ شَيْءٌ ، وَقَالَ : " مَنْ قَطَعَ مِنْهُ شَيْئًا فَلِمَنْ أَخَذَهُ سَلَبُهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سعد رضی اللہ عنہ کے غلام سے روایت ہے کہ` سعد نے مدینہ کے غلاموں میں سے کچھ غلاموں کو مدینہ کے درخت کاٹتے پایا تو ان کے اسباب چھین لیے اور ان کے مالکوں سے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منع کرتے سنا ہے کہ مدینہ کا کوئی درخت نہ کاٹا جائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” جو کوئی اس میں کچھ کاٹے تو جو اسے پکڑے اس کا اسباب چھین لے ۱؎ “ ۔

وضاحت:
۱؎: یہ جھڑکی اور ملامت کے طور پر ہے، پھر اسے واپس دیدے، اکثر علماء کی یہی رائے ہے، اور بعض علماء نے کہا ہے کہ نہ دے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 2038
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, مولي لسعد مجھول (وانظر فتح الملك المعبود 2/ 247) ولم أجد من وثقه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 78
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: 3951) (صحیح) » (متابعات سے تقویت پا کر یہ روایت صحیح ہے، مؤلف کی سند میں دو علتیں ہیں : صالح کا اختلاط اور مولی لسعد کا مبہم ہونا)
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 1363

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1363 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں حرم قرار دیتا ہوں، مدینہ کی دونوں حدوں کے درمیانی علاقہ کو، اس کے خار دار درخت نہ کاٹے جائیں اور اس کے شکار کو قتل نہ کیا جائے۔‘‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: ’’مدینہ لوگوں کے لیے بہتر ہے، اگر وہ (اس کی خیر و برکت کو) جانتے ہوں، کوئی انسان اس کو بے نیازی اختیار کرتے ہوئے نہیں چھوڑے گا، مگر اللہ تعالیٰ اس کی جگہ، اس سے بہتر بندے کو بھیج دے گا،... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:3318]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
عِضَاهٌ، عِضَاهَةٌ اورعِضْهٰةٌ کی جمع ہے، بڑا کانٹے دار درخت۔
(2)
لَاَوَاءٌ: بھوک اورتنگدستی۔
(3)
جَهْدٌ: مشقت وکلفت۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث اور اس کے ہم معنی دوسری حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ مدینہ طیبہ کا علاقہ بھی حرم ہے، اور واجب الاحترام ہے، اور اس میں ہر وہ عمل اور اقدام منع ہے جو اس کی عظمت اور حرمت کے خلاف ہو، اس کے درختوں کا کاٹنا اور جانوروں کا شکار کرنا جائز نہیں ہے۔
ائمہ ثلاثہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ۔
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ۔
اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کا یہی مؤقف ہے، لیکن ائمہ احناف کے نزدیک درختوں کا کاٹنا اور جانوروں کا شکار کرنا جائز ہے، یہ محض اس کی زیبائش اور زینت کے خلاف ہے۔

مدینہ منورہ کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ جو انسان وہاں کی دقتوں اور کلفتوں اور بھوک وشدت کو صبر وسکون سے برداشت کرے گا وہ وہاں کی خیرات وبرکات سے متمتع ہو گا اور اسے یہ شرف حاصل ہوگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن اس کی سفارش کریں گے، کہ اس کے قصور اور اس کی خطائیں معاف کردی جائیں، اور اس کو بخش دیا جائے اور اس کے اعمال صالحہ اورایمان اور اس کے صبر وشکیب کی شہادت دیں گے، یا نیک اور اطاعت گزار لوگوں کے لیے شہادت دیں گے اور اہل معاصی کے لیے سفارش فرمائیں گے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1363 سے ماخوذ ہے۔