سنن ابي داود
كتاب المناسك— کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل
باب فِي تَحْرِيمِ الْمَدِينَةِ باب: مدینہ کے حرم ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2036
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ الْحُبَابِ حَدَّثَهُمْ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كِنَانَةَ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : " حَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّ نَاحِيَةٍ مِنْ الْمَدِينَةِ بَرِيدًا بَرِيدًا ، لَا يُخْبَطُ شَجَرُهُ وَلَا يُعْضَدُ إِلَّا مَا يُسَاقُ بِهِ الْجَمَلُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عدی بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے ہر جانب ایک ایک برید محفوظ کر دیا ہے ۱؎ نہ وہاں کا درخت کاٹا جائے گا اور نہ پتے توڑے جائیں گے مگر اونٹ کے چارے کے لیے ( بہ قدر ضرورت ) ۔
وضاحت:
۱؎: چاروں اطراف مشرق، مغرب اور شمال جنوب کو ملا کر کل چار برید ہوئے اور ایک برید چار فرسخ کا ہوتا ہے اور ایک فرسخ تین میل کا اس طرح اس حدیث کی رو سے کل (۴۸) میل بنتا ہے جبکہ صحیح مسلم کی روایت میں (۱۲) میل کی صراحت آئی ہے۔