سنن ابي داود
كتاب المناسك— کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل
باب فِي تَحْرِيمِ الْمَدِينَةِ باب: مدینہ کے حرم ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2035
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يُخْتَلَى خَلَاهَا وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا وَلَا تُلْتَقَطُ لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمَنْ أَشَادَ بِهَا ، وَلَا يَصْلُحُ لِرَجُلٍ أَنْ يَحْمِلَ فِيهَا السِّلَاحَ لِقِتَالٍ وَلَا يَصْلُحُ أَنْ يُقْطَعَ مِنْهَا شَجَرَةٌ إِلَّا أَنْ يَعْلِفَ رَجُلٌ بَعِيرَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی رضی اللہ عنہ سے اس قصے میں روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس ( یعنی مدینہ ) کی نہ گھاس کاٹی جائے ، نہ اس کا شکار بھگایا جائے ، اور نہ وہاں کی گری پڑی چیزوں کو اٹھایا جائے ، سوائے اس شخص کے جو اس کی پہچان کرائے ، کسی شخص کے لیے درست نہیں کہ وہ وہاں لڑائی کے لیے ہتھیار لے جائے ، اور نہ یہ درست ہے کہ وہاں کا کوئی درخت کاٹا جائے سوائے اس کے کہ کوئی آدمی اپنے اونٹ کو چارہ کھلائے “ ۔