سنن ابي داود
كتاب المناسك— کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل
باب فِي دُخُولِ الْكَعْبَةِ باب: کعبہ میں داخل ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2030
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَمُسَدَّدٌ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ الْحَجَبِيِّ ، حَدَّثَنِي خَالِي ، عَنْ أُمِّي صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ الَأسْلَمِيَّةَ ، تَقُولُ : قُلْتُ لِعُثْمَانَ : مَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَعَاكَ ؟ قَالَ : قَالَ : " إِنِّي نَسِيتُ أَنْ آمُرَكَ أَنْ تُخَمِّرَ الْقَرْنَيْنِ ، فَإِنَّهُ لَيْسَ يَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ فِي الْبَيْتِ شَيْءٌ يَشْغَلُ الْمُصَلِّيَ " ، قَالَ ابْنُ السَّرْحِ : خَالِي مُسَافِعُ بْنُ شَيْبَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اسلمیہ کہتی ہیں کہ` میں نے عثمان رضی اللہ عنہ سے پوچھا ۱؎ : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو بلایا تو آپ سے کیا کہا ؟ تو انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں تمہیں یہ بتانا بھول گیا کہ مینڈھے ۲؎ کی دونوں سینگوں کو چھپا دو اس لیے کہ کعبہ میں کوئی چیز ایسی رہنی مناسب نہیں ہے جو نماز پڑھنے والے کو غافل کر دے “ ۔
وضاحت:
۱؎: عثمان سے مراد عثمان بن طلحہ حجبی رضی اللہ عنہ ہیں۔
۲؎: اس دنبہ کی سینگیں جس کو اسماعیل علیہ السلام کی جگہ پر ذبح کرنے کے لئے جبریل علیہ السلام لے آئے تھے۔
۲؎: اس دنبہ کی سینگیں جس کو اسماعیل علیہ السلام کی جگہ پر ذبح کرنے کے لئے جبریل علیہ السلام لے آئے تھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´کعبہ میں داخل ہونے کا بیان۔`
اسلمیہ کہتی ہیں کہ میں نے عثمان رضی اللہ عنہ سے پوچھا ۱؎: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو بلایا تو آپ سے کیا کہا؟ تو انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میں تمہیں یہ بتانا بھول گیا کہ مینڈھے ۲؎ کی دونوں سینگوں کو چھپا دو اس لیے کہ کعبہ میں کوئی چیز ایسی رہنی مناسب نہیں ہے جو نماز پڑھنے والے کو غافل کر دے۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2030]
اسلمیہ کہتی ہیں کہ میں نے عثمان رضی اللہ عنہ سے پوچھا ۱؎: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو بلایا تو آپ سے کیا کہا؟ تو انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میں تمہیں یہ بتانا بھول گیا کہ مینڈھے ۲؎ کی دونوں سینگوں کو چھپا دو اس لیے کہ کعبہ میں کوئی چیز ایسی رہنی مناسب نہیں ہے جو نماز پڑھنے والے کو غافل کر دے۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2030]
فوائد ومسائل:
دو سینگوں سے مراد حضرت ابراہیم ؑ کے لئے اسماعیل ؑ کے فدیہ میں آنے والے مینڈھے کے سینگ ہیں۔
جو کعبہ کے اندر محفوظ تھے۔
2۔
عام قاعدہ ہے کہ نمازی کے آگے ایسی کوئی چیز نہیں ہونی چاہیے۔
جو اس کی نظر یا دل کو مشغول کرنے والی ہو۔
جیسے کہ صحیحین میں حدیث ہے۔
کہ رسول اللہ ﷺنے اپنی سیاہ منقش چادرکے متعلق ف فرمایا تھا۔
میری یہ خمیصہ چادر ابوجہم کے پاس لے جائو۔
اس نے تو مجھے ابھی نماز میں مشغول کردیا تھا۔
انبجانیۃ۔
(صاف)چادر لے آئو (صحیح بخاری، الصلاة، حدیث 373 و صحیح مسلم، المساجد، حدیث: 556)
دو سینگوں سے مراد حضرت ابراہیم ؑ کے لئے اسماعیل ؑ کے فدیہ میں آنے والے مینڈھے کے سینگ ہیں۔
جو کعبہ کے اندر محفوظ تھے۔
2۔
عام قاعدہ ہے کہ نمازی کے آگے ایسی کوئی چیز نہیں ہونی چاہیے۔
جو اس کی نظر یا دل کو مشغول کرنے والی ہو۔
جیسے کہ صحیحین میں حدیث ہے۔
کہ رسول اللہ ﷺنے اپنی سیاہ منقش چادرکے متعلق ف فرمایا تھا۔
میری یہ خمیصہ چادر ابوجہم کے پاس لے جائو۔
اس نے تو مجھے ابھی نماز میں مشغول کردیا تھا۔
انبجانیۃ۔
(صاف)چادر لے آئو (صحیح بخاری، الصلاة، حدیث 373 و صحیح مسلم، المساجد، حدیث: 556)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2030 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 575 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
575- صفیہ بنت شیبہ بیان کرتی ہیں: بنو سلیم سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ انہوں نے سیدنا عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خانۂ کعبہ کے اندر تشریف لے جانے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگی ہوئی دعا کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”میں نے بیت اللہ میں دنبے کے سینگ دیکھے تھے، تو یہ خیال نہیں رہا کہ میں تمہیں ہدایت دیتا کہ تم انہیں ڈھانپ دو، تو اب تم انہیں ڈھانپ دو، کیونکہ بیت اللہ میں کوئی ایسی چیز نہیں ہونی چاہئے جو نمازی کی توجہ کو منتشر کرنے کا باعث ہو۔“ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:575]
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ مسجد میں کوئی ایسی چیز نہیں ہونی چاہیے جو نمازی کو نماز سے مشغول کر دے۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ مسجد میں کوئی ایسی چیز نہیں ہونی چاہیے جو نمازی کو نماز سے مشغول کر دے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 575 سے ماخوذ ہے۔