سنن ابي داود
كتاب المناسك— کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل
باب الصَّلَاةِ فِي الْكَعْبَةِ باب: کعبہ کے اندر نماز کا بیان۔
حدیث نمبر: 2026
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَفْوَانَ ، قَالَ : قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : كَيْفَ صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ ؟ قَالَ : " صَلَّى رَكْعَتَيْنِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالرحمٰن بن صفوان کہتے ہیں کہ` میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سے پوچھا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کعبہ میں داخل ہوئے تو آپ نے کیا کیا ؟ انہوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´کعبہ کے اندر نماز کا بیان۔`
عبدالرحمٰن بن صفوان کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کعبہ میں داخل ہوئے تو آپ نے کیا کیا؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2026]
عبدالرحمٰن بن صفوان کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کعبہ میں داخل ہوئے تو آپ نے کیا کیا؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2026]
فوائد ومسائل:
جسے کعبہ کے اندر جانے کا موقع میسر آجائے۔
اس کے لئے وہاں دو رکعت پڑھنا مستحب ہے۔
اور جسے موقع نہ ملے۔
وہ حطیم کے اندر پڑھ لے۔
وہ بھی کعبہ ہی کا حصہ ہے۔
اور شاید اللہ عز شانہ کی یہی حکمت تھی کہ ابتدا سے یہ حصہ کھلا رہ گیا اور تعمیر نہ ہوسکا۔
اس طرح ہر مسلمان کو کعبے کے اندر نماز پڑھنے کی سہولت ہر وقت میسر رہتی ہے۔
والحمد للہ علی ذلك
جسے کعبہ کے اندر جانے کا موقع میسر آجائے۔
اس کے لئے وہاں دو رکعت پڑھنا مستحب ہے۔
اور جسے موقع نہ ملے۔
وہ حطیم کے اندر پڑھ لے۔
وہ بھی کعبہ ہی کا حصہ ہے۔
اور شاید اللہ عز شانہ کی یہی حکمت تھی کہ ابتدا سے یہ حصہ کھلا رہ گیا اور تعمیر نہ ہوسکا۔
اس طرح ہر مسلمان کو کعبے کے اندر نماز پڑھنے کی سہولت ہر وقت میسر رہتی ہے۔
والحمد للہ علی ذلك
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2026 سے ماخوذ ہے۔