سنن ابي داود
كتاب المناسك— کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل
باب الصَّلَاةِ فِي الْكَعْبَةِ باب: کعبہ کے اندر نماز کا بیان۔
حدیث نمبر: 2024
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْأَذْرَمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَالِكٍ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ ، لَمْ يَذْكُرِ السَّوَارِيَ ، قَالَ : ثُمَّ صَلَّى وَبَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ ثَلَاثَةُ أَذْرُعٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی مالک سے یہی حدیث مروی ہے` اس میں ستونوں کا ذکر نہیں ، البتہ اتنا اضافہ ہے ” پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی ، آپ کے اور قبلے کے درمیان تین ہاتھ کا فاصلہ تھا “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´کعبہ کے اندر نماز کا بیان۔`
اس سند سے بھی مالک سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ستونوں کا ذکر نہیں، البتہ اتنا اضافہ ہے ” پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی، آپ کے اور قبلے کے درمیان تین ہاتھ کا فاصلہ تھا۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2024]
اس سند سے بھی مالک سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ستونوں کا ذکر نہیں، البتہ اتنا اضافہ ہے ” پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی، آپ کے اور قبلے کے درمیان تین ہاتھ کا فاصلہ تھا۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2024]
فوائد ومسائل:
معلوم ہوا نمازی اور سترے کے درمیان کم از کم تین ہاتھ کا فاصلہ ہونا چاہیے۔
معلوم ہوا نمازی اور سترے کے درمیان کم از کم تین ہاتھ کا فاصلہ ہونا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2024 سے ماخوذ ہے۔