حدیث نمبر: 2021
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عَبَّاسٍ : مَا بَالُ أَهْلِ هَذَا الْبَيْتِ يَسْقُونَ النَّبِيذَ وَبَنُو عَمِّهِمْ يَسْقُونَ اللَّبَنَ وَالْعَسَلَ وَالسَّوِيقَ ، أَبُخْلٌ بِهِمْ أَمْ حَاجَةٌ ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : مَا بِنَا مِنْ بُخْلٍ وَلَا بِنَا مِنْ حَاجَةٍ ، وَلَكِنْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَخَلْفَهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَرَابٍ ، فَأُتِيَ بِنَبِيذٍ ، فَشَرِبَ مِنْهُ وَدَفَعَ فَضْلَهُ إِلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ فَشَرِبَ مِنْهُ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَحْسَنْتُمْ وَأَجْمَلْتُمْ " ، كَذَلِكَ فَافْعَلُوا ، فَنَحْنُ هَكَذَا لَا نُرِيدُ أَنْ نُغَيِّرَ مَا قَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´بکر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ` ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک شخص نے پوچھا : کیا وجہ ہے کہ اس گھر کے لوگ نبیذ ( کھجور کا شربت ) پلاتے ہیں اور آپ کے چچا کے بیٹے ( قریش ) دودھ ، شہد اور ستو پلاتے ہیں ؟ کیا یہ لوگ بخیل یا محتاج ہیں ؟ ابن عباس نے کہا : نہ ہم بخیل ہیں اور نہ محتاج ، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک روز اپنی سواری پر بیٹھ کر آئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پینے کو کچھ مانگا تو نبیذ پیش کیا گیا ، آپ نے اس میں سے پیا اور باقی ماندہ اسامہ رضی اللہ عنہ کو دے دیا ، تو انہوں نے بھی اس میں سے پیا ، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نے اچھا کیا اور خوب کیا ایسے ہی کیا کرو “ ، تو ہم اسی کو اختیار کئے ہوئے ہیں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا تھا ، اسے ہم بدلنا نہیں چاہتے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 2021
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1316)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الحج 60 (1316)، ( تحفة الأشراف: 5373)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/245، 292، 336، 369، 373) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´حاجیوں کے لیے نبیذ کی سبیل لگانے کا بیان۔`
بکر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک شخص نے پوچھا: کیا وجہ ہے کہ اس گھر کے لوگ نبیذ (کھجور کا شربت) پلاتے ہیں اور آپ کے چچا کے بیٹے (قریش) دودھ، شہد اور ستو پلاتے ہیں؟ کیا یہ لوگ بخیل یا محتاج ہیں؟ ابن عباس نے کہا: نہ ہم بخیل ہیں اور نہ محتاج، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک روز اپنی سواری پر بیٹھ کر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پینے کو کچھ مانگا تو نبیذ پیش کیا گیا، آپ نے اس میں سے پیا اور باقی ماندہ اسامہ رضی اللہ عنہ کو دے دیا، تو انہوں نے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2021]
فوائد ومسائل:
دین و ایمان کا یہی تقاضا ہے۔
اور ایک مومن سے اسی کا مطالبہ ہے۔
کہ فرمان رسول ﷺ کو ہر کسی کے قول وفعل اور رائے سے مقدم رکھا جائے۔
جیسا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کیا کرتے تھے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2021 سے ماخوذ ہے۔