حدیث نمبر: 2020
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ يَحْيَى بْنِ ثَوْبَانَ ، أَخْبَرَنِي عُمَارَةُ بْنُ ثَوْبَانَ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ بَاذَانَ ، قَالَ : " أَتَيْتُ يَعْلَى بْنَ أُمَيَّةَ ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " احْتِكَارُ الطَّعَامِ فِي الْحَرَمِ إِلْحَادٌ فِيهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” حرم میں غلہ روک کر رکھنا اس میں الحاد ( کج روی ) ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 2020
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, موسي بن باذان مجهول(تق : 6949), وجعفر بن يحيي:مقبول(أي مجهول الحال), وعمارة بن ثوبان مستور (تقريب التهذيب: 962،4839), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 77
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: 11848) (ضعیف) » (اس کے رواة جعفر، عمارة اور موسی سب ضعیف ہیں)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´حرم مکہ کی حرمت کا بیان۔`
یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حرم میں غلہ روک کر رکھنا اس میں الحاد (کج روی) ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2020]
فوائد ومسائل:
حدیث اگرچہ ضعیف ہے۔
مگر دوسری روایات کی رو سے زخیرہ اندوزی جبکہ لوگ محتاج اور ضرورت مند ہوں۔
کبائر میں سے ہے۔
بالخصوص حرم میں اور بھی بد تر عمل ہے۔
  (وَمَن يُرِدْ فِيهِ بِإِلْحَادٍ بِظُلْمٍ نُّذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ) (الحج۔
25) 
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2020 سے ماخوذ ہے۔