حدیث نمبر: 2018
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ ، قَالَ : وَلَا يُخْتَلَى خَلَاهَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہی واقعہ مروی ہے` اس میں اتنا زائد ہے «لا يختلى خلاها» ( اور اس کے پودے نہ کاٹے جائیں ) ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 2018
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1834) صحيح مسلم (1353)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/ جزاء الصید 9 (1834)، الجہاد 1(2783) صحیح مسلم/الحج 82 (1353)، سنن الترمذی/ السیر 33 (1590)، سنن النسائی/ الکبری/ الحج (3857)، ( تحفة الأشراف: 5748)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/226، 259، 315، 355) ویأتی ہذا الحدیث فی الجہاد (2480) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´حرم مکہ کی حرمت کا بیان۔`
اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہی واقعہ مروی ہے اس میں اتنا زائد ہے «لا يختلى خلاها» (اور اس کے پودے نہ کاٹے جائیں)۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2018]
فوائد ومسائل:
حدود حرم کے درخت یا گھاس کا کاٹنا منع ہے۔
جانوروں کے چرانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2018 سے ماخوذ ہے۔