سنن ابي داود
كتاب المناسك— کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل
باب فِيمَنْ قَدَّمَ شَيْئًا قَبْلَ شَىْءٍ فِي حَجِّهِ باب: کسی نے حج میں کوئی کام آگے یا پیچھے کر لیا تو اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 2015
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ ، قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجًّا ، فَكَانَ النَّاسُ يَأْتُونَهُ ، فَمَنْ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، سَعَيْتُ قَبْلَ أَنْ أَطُوفَ ، أَوْ قَدَّمْتُ شَيْئًا أَوْ أَخَّرْتُ شَيْئًا ، فَكَانَ يَقُولُ : " لَا حَرَجَ لَا حَرَجَ إِلَّا عَلَى رَجُلٍ اقْتَرَضَ عِرْضَ رَجُلٍ مُسْلِمٍ وَهُوَ ظَالِمٌ ، فَذَلِكَ الَّذِي حَرِجَ وَهَلَكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے لیے نکلا ، لوگ آپ کے پاس آتے تھے جب کوئی کہتا : اللہ کے رسول ! میں نے طواف سے پہلے سعی کر لی یا میں نے ایک چیز کو مقدم کر دیا یا مؤخر کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے : ” کوئی حرج نہیں ، کوئی حرج نہیں ، حرج صرف اس پر ہے جس نے کسی مسلمان کی جان یا عزت و آبرو پامال کی اور وہ ظالم ہو ، ایسا ہی شخص ہے جو حرج میں پڑ گیا اور ہلاک ہوا “ ۔