حدیث نمبر: 2013
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، وَأَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِالْبَطْحَاءِ ، ثُمَّ هَجَعَ هَجْعَةً ، ثُمَّ دَخَلَ مَكَّةَ " ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر ، عصر ، مغرب اور عشاء بطحاء میں پڑھی پھر ایک نیند سوئے ، پھر مکہ میں داخل ہوئے اور ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کرتے تھے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 2013
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, انظر الحديث السابق (2012)
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، ( تحفة الأشراف: 6658، 7590) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´وادی محصب میں اترنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر، عصر، مغرب اور عشاء بطحاء میں پڑھی پھر ایک نیند سوئے، پھر مکہ میں داخل ہوئے اور ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2013]
فوائد ومسائل:
ایام تشریق میں رمی جمرات زوال کے بعد ہوتی ہے۔
آخری دن نبی کریمﷺ زوال ہوتے ہی منیٰ سے روانہ ہوگئے رمی کی اور پھر بطحا میں آکر نماز ظہر پڑھی۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2013 سے ماخوذ ہے۔