سنن ابي داود
كتاب المناسك— کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل
باب التَّحْصِيبِ باب: وادی محصب میں اترنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2009
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْمَعْنَى . ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو رَافِعٍ : " لَمْ يَأْمُرْنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُنْزِلَهُ وَلَكِنْ ضَرَبْتُ قُبَّتَهُ فَنَزَلَهُ " ، قَالَ مُسَدَّدٌ : وَكَانَ عَلَى ثَقَلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ عُثْمَانُ : يَعْنِي فِي الْأَبْطَحِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ` ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : مجھے آپ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) نے یہ حکم نہیں دیا تھا کہ میں وہاں ( محصب میں ) اتروں ، میں نے وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خیمہ نصب کیا تھا ، آپ وہاں اترے تھے ۔ مسدد کی روایت میں ہے ، وہ ( ابورافع ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسباب کے محافظ تھے اور عثمان رضی اللہ عنہ کی روایت میں «يعني في الأبطح» کا اضافہ ہے ( مطلب یہ ہے کہ وہ ابطح میں محافظ تھے ) ۔