حدیث نمبر: 2007
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ طَارِقٍ أَخْبَرَهُ ، عَنْ أُمِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " إِذَا جَازَ مَكَانًا مِنْ دَارِ يَعْلَى نَسِيَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ اسْتَقْبَلَ الْبَيْتَ فَدَعَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبدالرحمٰن بن طارق اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں ، وہ کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب یعلیٰ کے گھر کی جگہ سے آگے بڑھتے ( اس جگہ کا نام عبیداللہ بھول گئے ) تو بیت اللہ کی جانب رخ کرتے اور دعا مانگتے ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: نہ تو یہ حدیث صحیح ہے اور نہ ہی باب سے اس کا کوئی تعلق ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 2007
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, نسائي (2899), عبدالرحمان بن طارق: مجهول،انظر التحرير (3904) وثقه ابن حبان وحده, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 76
تخریج حدیث « سنن النسائی/الحج 123 (2899)، ( تحفة الأشراف: 18374)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/436، 437) (ضعیف) » (اس کے راوی عبدالرحمن لین الحدیث ہیں)
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 2899

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 2899 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´بیت اللہ (کعبہ) کو دیکھ کر دعا کرنے کا بیان۔`
عبدالرحمٰن بن طارق کی والدہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب دار یعلیٰ کے مکان میں آ جاتے ۱؎ تو قبلہ کی طرف منہ کرتے، اور دعا کرتے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2899]
اردو حاشہ: یہ روایت بھی ضعیف ہے۔ بیت اللہ کو دیکھ کر کوئی دعا پڑھنا کسی صحیح مرفوع حدیث میں وارد نہیں، لیکن اگر کوئی دعا کرنا چاہتا ہے تو کر بھی سکتا ہے۔ نبیﷺ سے کوئی مخصوص دعا مروی نہیں۔ البتہ اس موقع پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ایک دعا حسن سند سے منقول ہے۔ اس کے الفاظ درج ذیل ہیں: [اللَّهمَّ أنت السَّلامُ ومنك السَّلامُ فحيِّنا ربَّنا بالسَّلامِ ] (سنن البیھقي: 5/ 73) مذکور الفاظ کے ساتھ دعا کرنا بہتر ہے۔ واللہ اعلم! ملاحظہ ہو: (مناسک الحج والعمرۃ للالبانی: ص 20)
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2899 سے ماخوذ ہے۔