حدیث نمبر: 2001
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَمْ يَرْمُلْ فِي السَّبْعِ الَّذِي أَفَاضَ فِيهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف افاضہ کے سات پھیروں میں رمل نہیں کیا ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: معلوم ہوا کہ دوران طواف دلکی چال جسے رمل کہتے ہیں وہ صرف طواف قدوم میں مشروع ہے طواف افاضہ وغیرہ میں مشروع نہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 2001
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن, مشكوة المصابيح (2673), صححه ابن خزيمة (2943 وسنده حسن) حديث ابن جريج عن عطاء قوي وإن عنعن
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/المناسک 77 (3060)، ( تحفة الأشراف: 5917)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری/ الحج (4170) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 3060 | بلوغ المرام: 640

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 640 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´حج کا طریقہ اور دخول مکہ کا بیان`
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف افاضہ میں طواف کے سات چکروں (پھیروں) میں کسی چکر میں بھی رمل نہیں فرمایا۔ اسے ترمذی کے علاوہ پانچوں نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 640]
640فوائد و مسائل:
➊ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ طواف افاضہ اور طواف وداع میں رمل نہیں۔ رمل صرف طواف قدوم میں ہے۔
➋ طواف قدوم اس پہلے طواف کو کہتے ہیں جو مکہ میں داخل ہوتے ہی کیا جاتا ہے۔
➌ یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ رمل صرف مردوں کے لیے ہے۔ خواتین کے لیے نہیں، ہاں اگر کسی وجہ سے کسی حاجی کا طواف قدوم میں رمل چھوٹ گیا ہو تو اس کی تلافی ضروری نہیں۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 640 سے ماخوذ ہے۔