حدیث نمبر: 200
حَدَّثَنَا شَاذُّ بْنُ فَيَّاضٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْتَظِرُونَ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ حَتَّى تَخْفِقَ رُءُوسُهُمْ ثُمَّ يُصَلُّونَ وَلَا يَتَوَضَّئُونَ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : زَادَ فِيهِ شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : كُنَّا نَخْفِقُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، بِلَفْظٍ آخَرَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب عشاء کی نماز کا انتظار کرتے تھے ، یہاں تک کہ ان کے سر ( نیند کے غلبہ سے ) جھک جھک جاتے تھے ، پھر وہ نماز ادا کرتے اور ( دوبارہ ) وضو نہیں کرتے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس میں شعبہ نے قتادہ سے یہ اضافہ کیا ہے کہ : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نماز کے انتظار میں بیٹھے بیٹھے نیند کے غلبہ کی وجہ سے جھک جھک جاتے تھے ، اور اسے ابن ابی عروبہ نے قتادہ سے دوسرے الفاظ میں روایت کیا ہے ۔

وضاحت:
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا یہ سونا بیٹھے بیٹھے تھا نہ کہ لیٹ کر۔ جیسے کہ دیگر احادیث سے ثابت ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 200
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (376), مشكوة المصابيح (317)
تخریج حدیث «أخرجه: صحيح مسلم/الحيض/ 33. باب الدليل على أن نوم الجالس لا ينقض الوضوء: فواد 376 : دارالسلام 835، من حديث قتادة به ، ‏‏‏‏تفرد به ابوداود ، تحفة الأشراف: 1384 ، سنن الترمذي/الطهارة/ 57. باب ما جاء فى الوضوء من النوم : 78، وصححه الدارقطني : 1/ 131 (صحيح)» ‏‏‏‏
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 376 | بلوغ المرام: 62 | سنن ترمذي: 78

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 62 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´جب تک انسان گہری نیند نہ سوئے اس وقت تک اس کا وضو نہیں ٹوٹتا`
«. . . عن انس بن مالك رضي الله عنه قال: کان اصحاب رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم على عهده ينتظرون العشاء،‏‏‏‏ حتى تخفق رؤوسهم،‏‏‏‏ ثم يصلون ولا يتوضاون . . .»
. . . سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عہدرسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نماز عشاء کا اتنا انتظار کرتے کہ غلبہ نیند کی وجہ سے ان کے سر جھک جاتے۔ مگر وہ ازسر نو وضو کئے بغیر نماز پڑھ لیتے . . . [بلوغ المرام/كتاب الطهارة: 62]
لغوی تشریح:
«بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ» «نَوَاقِضِ» ناقص کی جمع ہے۔ اس سے مراد وہ چیزیں ہیں جن سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔
«تَخْفِقَ» نیند کے غلبے کی وجہ سے جھک جاتے۔
«رُؤُوسُهُمْ» «رؤس» ، «راس» کی جمع ہے جس کے معنی سر کے ہیں۔

فوائد و مسائل:
➊ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جب تک انسان گہری نیند نہ سوئے اس وقت تک اس کا وضو نہیں ٹوٹتا۔
➋ اس سے پہلے سیدنا صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کی روایت گزشتہ باب میں گزر چکی ہے جو مطلق نیند سے وضو کے ٹوٹنے پر دلالت کرتی ہے۔
➌ اس روایت کی روشنی میں اس روایت کو گہری نیند پر محمول کیا جائے گا یا یہ کہا جائے گا کہ اس حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نیند سے مراد مخصوص نیند (اونگھ) لی ہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس نیند سے واقف تھے جس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور اس نیند سے بھی باخبر تھے جس سے وضو نہیں ٹوٹتا، اس لیے وضاحت اور بیان کی ضرورت نہیں سمجھی۔ بہرصورت یہ بات معلوم ہوئی کہ ٹیک یا تکیہ لگا کر سو جانے کی وجہ سے جبکہ انسان کا شعور اور احساس زائل ہو جائے تو ایسی نیند ناقض وضو ہو گی۔ اور عموماً شعور زائل ہو جاتا ہے بصورت دیگر اونگھ سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
➍ ٹیک لگانے یا تکیے کا سہارا لینے کی حالت میں جسمانی جوڑ ڈھیلے ہو جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں پیٹ سے ہوا کے خروج کا غالب امکان ہوتا ہے، اسی بنیاد پر احتیاط کے پیش نظر وضو نئے سرے سے کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ بالصواب»
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 62 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 78 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´نیند سے وضو کا بیان۔`
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی الله عنہم (بیٹھے بیٹھے) سو جاتے، پھر اٹھ کر نماز پڑھتے اور وضو نہیں کرتے تھے۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 78]
اردو حاشہ:
1؎:
ان تینوں میں راجح پہلا مذہب ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 78 سے ماخوذ ہے۔