حدیث نمبر: 1992
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : " سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ كَمْ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : مَرَّتَيْنِ " ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : " لَقَدْ عَلِمَ ابْنُ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ اعْتَمَرَ ثَلَاثًا ، سِوَى الَّتِي قَرَنَهَا بِحَجَّةِ الْوَدَاعِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´مجاہد کہتے ہیں کہ` ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے کئے ؟ انہوں نے جواب دیا : دو بار ۱؎ ، اس پر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : ابن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عمرے کے علاوہ جو آپ نے حجۃ الوداع کے ساتھ ملایا تھا تین عمرے کئے ہیں ۔

وضاحت:
۱؎: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے عمرہ حدیبیہ کو اور اسی طرح حج کے ساتھ والے عمرہ کو شمار نہیں کیا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1992
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, أبو إسحاق عنعن, وأصل الحديث متفق عليه (خ 1775 م 1255) بغير ھذا اللفظ, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 76
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، ( تحفة الأشراف: 7384، 17574) (ضعیف) » (اس کے راوی ابواسحاق مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت ہے، مگر اس میں مذکور عمروں کی تعداد صحیح ہے)
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 1774 | سنن ترمذي: 937 | سنن ابي داود: 1986

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1774 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
1774. حضرت عکرمہ بن خالد سے روایت ہے، انھوں نے حضرت ابن عمر ؓ سے دریافت کیا کہ حج سے پہلے عمرہ کیا جاسکتا ہے؟انھوں نے فرمایا: کوئی حرج نہیں ہے۔ عکرمہ نے کہا کہ حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے حج کرنے سے پہلے عمرہ کیاتھا۔ محمد بن اسحاق بھی حضرت عکرمہ بن خالد سے اسی طرح بیان کرتے ہیں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:1774]
حدیث حاشیہ: حضرت عبداللہ بن مبارک مروزی ہیں۔
بنی حنظلہ کے آزاد کردہ ہیں، ہشام بن عروہ، امام مالک، ثوری، شعبہ اور اوزاعی اور ان کے ماسوا بہت سے لوگوں سے حدیث کو سنا اور ان سے سفیان بن عیینہ اور یحییٰ بن سعید اور یحییٰ بن معین وغیرہ روایت کرتے ہیں، ان علماءمیں سے ہیں جن کو قرآن مجید میں علماءربانین سے یاد کیا گیا ہے، اپنے زمانہ کے امام اور پختہ کار فقیہ اور حافظ حدیث تھے، ساتھ ہی زاہد کامل اور قابل فخر سخی اور اخلاق فاضلہ کے مجسمہ تھے۔
اسماعیل بن عیاش نے کہا کہ روئے زمین پر ان کے زمانہ میں کوئی ان جیسا باخدا عالم مسلمانوں میں نہ تھا۔
خیر کی کوئی ایسی خصلت نہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کو نہ بخشی ہو، ان کے شاگردوں کی بھی کثیر تعداد ہے۔
عرصہ تک بغداد میں درس حدیث دیا۔
ان کا سال پیدائش118ھ ہے اور181ھ میں وفات پائی، اللہ پاک فردوس بریں میں آپ کے بہترین مقامات میں اضافہ فرمائے اور ہم کو ایسے بزرگوں کے ساتھ محشور کرے، آمین۔
صد افسوس کہ آج ایسے بزرگوں اور باخدا حضرات سے امت محروم ہے، کاش! اللہ پاک پھر ایسے بزرگ پیدا کرے اور امت کو پھر ایسے بزرگوں کے علوم سے نور ایقان عطا کرے۔
آمین۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1774 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1774 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
1774. حضرت عکرمہ بن خالد سے روایت ہے، انھوں نے حضرت ابن عمر ؓ سے دریافت کیا کہ حج سے پہلے عمرہ کیا جاسکتا ہے؟انھوں نے فرمایا: کوئی حرج نہیں ہے۔ عکرمہ نے کہا کہ حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے حج کرنے سے پہلے عمرہ کیاتھا۔ محمد بن اسحاق بھی حضرت عکرمہ بن خالد سے اسی طرح بیان کرتے ہیں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:1774]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس روایت سے معلوم ہوا کہ حج کرنے سے پہلے عمرہ ادا کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
مسند احمد میں اس کی تفصیل ہے: حضرت عکرمہ بن خالد کہتے ہیں: میں اہل مکہ کے ایک گروہ کے ساتھ مدینے آیا تو میں نے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے ملاقات کی۔
میں نے کہا: ہم نے کبھی حج نہیں کیا، آیا ہم مدینہ منورہ سے عمرے کا احرام باندھ لیں؟ آپ نے فرمایا: ہاں، اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے بھی حج ادا کرنے سے پہلے عمرہ ادا کیا تھا۔
حضرت عکرمہ کہتے ہیں کہ ہم نے مدینے سے عمرے کا احرام باندھا اور اس کی تکمیل کی۔
(مسندأحمد: 158/2) (2)
ان روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ عمرہ کرنے سے پہلے رسول اللہ ﷺ پر حج فرض ہو چکا تھا۔
اسی صورت میں استدلال صحیح ہو سکے گا۔
(فتح الباري: 756/3)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1774 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 937 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´رجب کے عمرے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کیے، ان میں سے ایک رجب میں تھا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 937]
اردو حاشہ: 1؎: ترمذی نے یہ حدیث مختصراً روایت کی ہے شیخین نے اسے جریرعن منصورعن مجاہدکے طریق سے مفصلاً روایت کی ہے صحیح بخاری کے الفاظ یہ ہیں'قال: دخلت أنا وعروۃ بن الزبیرالمسجد فإذا عبداللہ بن عمرجالس إلی حجرۃ عائشۃ، وإذا ناس یصلون فی المسجد صلاۃ الضحیٰ، قال: فسألناہ عن صلاتہم فقال: بدعۃ، ثم قال لہ: کم اعتمرالنبیﷺ قال: اربع احداہن فی رجب، فکرہناأن نردّعلیہ وقال: سمعنااستنان عائشۃ أم المومنین فی الحجرۃ فقال عروۃ: یا أم المومنین! ألاتسمعین ما یقول ابوعبدالرحمن؟ قالت: مایقول؟ قال: یقول: أن رسول اللہﷺ اعتمر أربع عمرات إحداہن فی رجب، قالت: -یرحمہ اللہ اباعبدالرحمن- مااعتمر عمرۃ إلا وہو شاہد، وما اعتمرفی رجب قط'۔
(مجاہدکہتے ہیں کہ میں اورعروہ بن زبیرمسجدنبوی میں داخل ہوئے اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا کو عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے پاس بیٹھاپایا، لوگ مسجد میں صلاۃ الضحی (چاشت کی صلاۃ) پڑھ رہے تھے، ہم نے ابن عمر رضی اللہ عنہا سے ان لوگوں کی صلاۃ کے بارے میں پوچھا، فرمایا: یہ بدعت ہے، پھرمجاہد نے ان سے پوچھانبی اکرمﷺ نے کتنے عمرے کئے تھے؟ کہا: چارعمرے ایک ماہ رجب میں تھا، ہم نے یہ ناپسند کیا کہ ان کی تردید کریں، ہم نے ام المومنین عائشہ کی حجرے میں آواز سنی تو عروہ نے کہا: ام المومنین ابوعبدالرحمن ابن عمرجوکہہ رہے ہیں کیا آپ اسے سن رہی ہیں؟ کہا: کیا کہہ رہے ہیں، کہا کہہ رہے کہ رسول اللہﷺ نے چارعمرے کئے ایک رجب میں تھافرمایا: ابوعبدالرحمن ابن عمرپراپنا رحم فرماتے، رسول اللہﷺ کے ہرعمرہ میں وہ حاضرتھے (پھر بھی یہ بات کہہ رہے ہیں) آپ نے رجب میں ہرگزعمرہ نہیں کیا۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 937 سے ماخوذ ہے۔