حدیث نمبر: 1985
حَدَّثَنَا أَبُو يَعْقُوبَ الْبَغْدَادِيُّ ثِقَةٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، قَالَتْ : أَخْبَرَتْنِي أُمُّ عُثْمَانَ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ عَلَى النِّسَاءِ الْحَلْقُ ، إِنَّمَا عَلَى النِّسَاءِ التَّقْصِيرُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عورتوں پر حلق نہیں بلکہ صرف «تقصير» ( بال کٹانا ) ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1985
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (2654), ابن جريج صرح بالسماع عند الدارمي (1911) وحسنه الحافظ ابن حجر في التلخيص الحبير (2/261)
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، ( تحفة الأشراف: 6576) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 1984 | بلوغ المرام: 634

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´بال منڈانے اور کٹوانے کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتوں پر حلق نہیں بلکہ صرف «تقصير» (بال کٹانا) ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1985]
1985. اردو حاشیہ: عورتوں کے لئے بال کترنا بھی اسی حد تک ہے کہ شرعی حکم پرعمل ہوجائے۔ورنہ مردوں کی مشابہت کی حد تک پہنچنا حرام ہے۔ایسے ہی سر منڈانا بھی ناجائز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1985 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 634 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´حج کا طریقہ اور دخول مکہ کا بیان`
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورتوں کے لیے منڈوانا نہیں بلکہ ان کے لیے صرف بال ترشوانا ہے۔ اسے ابوداؤد نے حسن سند سے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 634]
634فائدہ:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خواتین کو سر کے بال منڈوانے نہیں بلکہ صرف کترانے چاہییں اور علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ ان کے لیے بال کترانا ہی مشروع ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 634 سے ماخوذ ہے۔