حدیث نمبر: 1984
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : بَلَغَنِي عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ بْنِ عُثْمَانَ ، قَالَتْ : أَخْبَرَتْنِي أُمُّ عُثْمَانَ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ عَلَى النِّسَاءِ حَلْقٌ ، إِنَّمَا عَلَى النِّسَاءِ التَّقْصِيرُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عورتوں پر حلق نہیں صرف «تقصير» ( بال کٹانا ) ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1984
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح لغيره , شیخ زبیر علی زئی: حسن, مشكوة المصابيح (2654), انظر الحديث الآتي (1985)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: 6576)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/المناسک 63 (1946) (صحیح) » (اگلی سند سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے)
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 1985 | بلوغ المرام: 634

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1985 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´بال منڈانے اور کٹوانے کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتوں پر حلق نہیں بلکہ صرف «تقصير» (بال کٹانا) ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1985]
1985. اردو حاشیہ: عورتوں کے لئے بال کترنا بھی اسی حد تک ہے کہ شرعی حکم پرعمل ہوجائے۔ورنہ مردوں کی مشابہت کی حد تک پہنچنا حرام ہے۔ایسے ہی سر منڈانا بھی ناجائز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1985 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 634 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´حج کا طریقہ اور دخول مکہ کا بیان`
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورتوں کے لیے منڈوانا نہیں بلکہ ان کے لیے صرف بال ترشوانا ہے۔ اسے ابوداؤد نے حسن سند سے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 634]
634فائدہ:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خواتین کو سر کے بال منڈوانے نہیں بلکہ صرف کترانے چاہییں اور علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ ان کے لیے بال کترانا ہی مشروع ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 634 سے ماخوذ ہے۔