سنن ابي داود
كتاب المناسك— کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل
باب فِي رَمْىِ الْجِمَارِ باب: رمی جمرات کا بیان۔
حدیث نمبر: 1973
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْمَعْنَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ،عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ حِينَ صَلَّى الظُّهْرَ ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مِنًى فَمَكَثَ بِهَا لَيَالِيَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ يَرْمِي الْجَمْرَةَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ ، كُلُّ جَمْرَةٍ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ ، وَيَقِفُ عِنْدَ الْأُولَى وَالثَّانِيَةِ فَيُطِيلُ الْقِيَامَ وَيَتَضَرَّعُ وَيَرْمِي الثَّالِثَةَ وَلَا يَقِفُ عِنْدَهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یوم النحر ) کے آخری حصہ میں جس وقت ظہر پڑھ لی طواف افاضہ کیا ، پھر منیٰ لوٹے اور تشریق کے دنوں تک وہاں ٹھہرے رہے ، جب سورج ڈھل جاتا تو ہر جمرے کو سات سات کنکریاں مارتے ، ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے ، اور پہلے اور دوسرے جمرے پر دیر تک ٹھہرتے ، روتے ، گڑگڑاتے اور دعا کرتے اور تیسرے جمرے کو کنکریاں مار کر اس کے پاس نہیں ٹھہرتے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´رمی جمرات کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یوم النحر) کے آخری حصہ میں جس وقت ظہر پڑھ لی طواف افاضہ کیا، پھر منیٰ لوٹے اور تشریق کے دنوں تک وہاں ٹھہرے رہے، جب سورج ڈھل جاتا تو ہر جمرے کو سات سات کنکریاں مارتے، ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے، اور پہلے اور دوسرے جمرے پر دیر تک ٹھہرتے، روتے، گڑگڑاتے اور دعا کرتے اور تیسرے جمرے کو کنکریاں مار کر اس کے پاس نہیں ٹھہرتے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1973]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یوم النحر) کے آخری حصہ میں جس وقت ظہر پڑھ لی طواف افاضہ کیا، پھر منیٰ لوٹے اور تشریق کے دنوں تک وہاں ٹھہرے رہے، جب سورج ڈھل جاتا تو ہر جمرے کو سات سات کنکریاں مارتے، ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے، اور پہلے اور دوسرے جمرے پر دیر تک ٹھہرتے، روتے، گڑگڑاتے اور دعا کرتے اور تیسرے جمرے کو کنکریاں مار کر اس کے پاس نہیں ٹھہرتے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1973]
1973. اردو حاشیہ: ➊ دسویں تاریخ (یوم النحر) کو سورج نکلنے کے بعد ایک جمرۂ عقبہ کو کنکریاں ماری جاتی ہیں۔ اور باقی دنوں میں تینوں جمرات کو زوال کے بعد۔
➋ پہلے اور دوسرے جمرے کو رمی کرنے کے بعد ہاتھ اٹھاکر لمبی دعا سنت ہےتیسرے کے پاس نہیں
➌ اس حدیث میں «حين صلى الظهر» ظہرپڑھ لینے کے بعد کے الفاظ منکر ہیں (شیخ البانی )۔
➋ پہلے اور دوسرے جمرے کو رمی کرنے کے بعد ہاتھ اٹھاکر لمبی دعا سنت ہےتیسرے کے پاس نہیں
➌ اس حدیث میں «حين صلى الظهر» ظہرپڑھ لینے کے بعد کے الفاظ منکر ہیں (شیخ البانی )۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1973 سے ماخوذ ہے۔