حدیث نمبر: 1970
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي عَلَى رَاحِلَتِهِ يَوْمَ النَّحْرِ ، يَقُولُ : " لِتَأْخُذُوا مَنَاسِكَكُمْ فَإِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلِّي لَا أَحُجُّ بَعْدَ حَجَّتِي هَذِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ اپنی سواری پر یوم النحر کو رمی کر رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے : ” تم لوگ اپنے حج کے ارکان سیکھ لو کیونکہ مجھے نہیں معلوم کہ میں اپنے اس حج کے بعد کوئی حج کر سکوں گا یا نہیں “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1970
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1297)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الحج 53 (1297)، سنن النسائی/الحج 220 (3064)، ( تحفة الأشراف: 2804)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج 59 (894)، سنن ابن ماجہ/المناسک 75 (3053)، مسند احمد (3/313، 319، 400)، سنن الدارمی/المناسک 58 (1937) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 3064 | سنن ابن ماجه: 3023

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3064 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´سوار ہو کر کنکریاں مارنے اور محرم کے سایہ کرنے کا بیان۔`
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اونٹ پر سوار ہو کر جمرہ کو کنکریاں مارتے ہوئے دیکھا، اور آپ فرما رہے تھے: لوگو! مجھ سے اپنے حج کے طریقے سیکھ لو کیونکہ میں نہیں جانتا شاید میں اس سال کے بعد آئندہ حج نہ کر سکوں۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3064]
اردو حاشہ: شاید دراصل آپ کو بہت سے قرائن کی بنا پر معلوم ہو چکا تھا کہ یہ میری دنیوی زندگی کا آخری سال ہے اور اسے آپ نے اشارات وکنایات میں لوگوں پر ظاہر بھی کر دیا تھا۔ مندرجہ بالا جملہ بھی اسی بات کا اظہار ہے۔ حج نہ کر سکنے کا مطلب بھی وفات ہی ہے۔ شاید کا لفظ پیغمبرانہ شان ہے کہ باوجود یقین کے امکان ظاہر کیا کیونکہ ایسے معاملات بہر صورت اللہ تعالیٰ ہی کے علم میں ہیں۔ صرف تین ماہ بعد پیارے رسول اللہﷺ اپنے مولا و رفیق اعلیٰ کو پیارے ہوگئے۔ فداہ نفسي وروحي وابي واميﷺ
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3064 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3023 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´مزدلفہ میں ٹھہرنے کا بیان۔`
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع میں مزدلفہ سے اطمینان کے ساتھ لوٹے، اور لوگوں کو بھی اطمینان کے ساتھ چلنے کا حکم دیا، اور حکم دیا کہ وہ ایسی کنکریاں ماریں جو دونوں انگلیوں کے درمیان آ سکیں، اور وادی محسر، میں آپ نے سواری کو تیز چلایا اور فرمایا: میری امت کے لوگ حج کے احکام سیکھ لیں، کیونکہ مجھے نہیں معلوم شاید اس سال کے بعد میں ان سے نہ مل سکوں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3023]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
حج کے دوران میں ایک مقام سے دوسرے مقام تک جاتے ہوئے تیز رفتاری سے پرہیز کرنا چاہیے بلکہ درمیانی راستہ سے چلنا چاہیے۔

(2)
وادئ محسر وہ مقام ہے جہاں ابرہہ کا لشکر تباہ ہوا تھا اس لیے رسول اللہﷺ وہاں سے تیزی سے گزرے۔

(3)
قدیم تباہ شدہ بستیوں کو سیر گاہ نہیں بنانا چاہیے۔
پاکستان میں ہڑپہ اور موہن جودڑو کے کھنڈرات پائے جاتے ہیں دوسرے ممالک میں بھی ایسے مقام موجود ہیں۔
ممکن ہے یہاں کے لوگ اللہ کے عذاب کی وجہ سے تباہ ہوئے ہوں۔
اللہ کی عذاب یافتہ قوموں کے آثار باعث عبرت ہے تماشہ گاہ نہیں۔

(4)
شریعت کے مسائل میں اصل مرجع رسول اللہ ﷺ کی ذات مبارک ہےکسی اور کا عمل حجت نہیں۔
علمائے کرام سے رسول اللہﷺ کا فرمان ہی دریافت کرنا چاہیے۔

(5)
رسول اللہﷺ اگلے حج تک زندہ نہیں رہے جیسے آخری حج کے موقع پر فرما دیا تھا۔
نبیﷺ کی اور بھی بہت سی پیشگوئیاں حرف بحرف پوری ہوئیں۔
یہ رسول اکرم ﷺ کی صداقت اور نبوت کی دلیل ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3023 سے ماخوذ ہے۔