سنن ابي داود
كتاب الطهارة— کتاب: طہارت کے مسائل
باب الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ باب: دودھ پی کر کلی نہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 197
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ الْحُبَابِ ، عَنْ مُطِيعِ بْنِ رَاشِدٍ ، عَنْ تَوْبَةَ الْعَنْبَرِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ : " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ لَبَنًا ، فَلَمْ يُمَضْمِضْ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ ، وَصَلَّى " ، قَالَ زَيْدٌ : دَلَّنِي شُعْبَةُ عَلَى هَذَا الشَّيْخِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ پیا پھر نہ کلی کی اور نہ ( دوبارہ ) وضو کیا اور نماز پڑھی ۔
وضاحت:
دودھ پی کر کلی بھی کی جا سکتی ہے جیسا کہ پچھلی حدیث ۱۹۶ میں بیان ہوا ہے لیکن اگر کلی نہ بھی کی جائے پھر بھی جائز ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´دودھ پی کرکلی کر لینا مستحب`
«. . . أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ لَبَنًا، فَلَمْ يُمَضْمِضْ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ، وَصَلَّى . . .»
”. . . انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ پیا پھر نہ کلی کی اور نہ (دوبارہ) وضو کیا اور نماز پڑھی . . .“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 197]
«. . . أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ لَبَنًا، فَلَمْ يُمَضْمِضْ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ، وَصَلَّى . . .»
”. . . انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ پیا پھر نہ کلی کی اور نہ (دوبارہ) وضو کیا اور نماز پڑھی . . .“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 197]
فوائد و مسائل:
دودھ پی کر کلی کر لینا مستحب اور افضل ہے، نہ بھی کرے تو جائز ہے۔
دودھ پی کر کلی کر لینا مستحب اور افضل ہے، نہ بھی کرے تو جائز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 197 سے ماخوذ ہے۔