سنن ابي داود
كتاب المناسك— کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل
باب فِي رَمْىِ الْجِمَارِ باب: رمی جمرات کا بیان۔
حدیث نمبر: 1967
حَدَّثَنَا أَبُو ثَوْرٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، وَوَهْبُ بْنُ بَيَانٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ ، عَنْ أُمِّهِ ، قَالَتْ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ رَاكِبًا ، وَرَأَيْتُ بَيْنَ أَصَابِعِهِ حَجَرًا فَرَمَى وَرَمَى النَّاسُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´والدہ سلیمان بن عمرو بن احوص رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمرہ عقبہ کے پاس سوار دیکھا اور میں نے دیکھا کہ آپ کی انگلیوں میں کنکریاں تھیں ، تو آپ نے بھی رمی کی اور لوگوں نے بھی رمی کی ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: ان احادیث سے معلوم ہوا کہ جمرات کی رمی سواری پر درست ہے، لیکن موجودہ حالات میں منتظمین حج کے احکام کی روشنی میں مناسک حج، قربانی، اور رمی جمرات وغیرہ کے کام انجام دینا چاہئے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´رمی جمرات کا بیان۔`
والدہ سلیمان بن عمرو بن احوص رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمرہ عقبہ کے پاس سوار دیکھا اور میں نے دیکھا کہ آپ کی انگلیوں میں کنکریاں تھیں، تو آپ نے بھی رمی کی اور لوگوں نے بھی رمی کی ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1967]
والدہ سلیمان بن عمرو بن احوص رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمرہ عقبہ کے پاس سوار دیکھا اور میں نے دیکھا کہ آپ کی انگلیوں میں کنکریاں تھیں، تو آپ نے بھی رمی کی اور لوگوں نے بھی رمی کی ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1967]
1967. اردو حاشیہ: لفظ حجرکا ترجمہ کنکریاں دوسری روایات کی بنا پر صحیح ہے نیز اسی روایات میں «بين اصابعه» یعنی انگلیوں کے بیچ میں کا لفظ بھی موجود ہے۔ ورنہ معروف معنوں میں پتھر مارنا تو جائز نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1967 سے ماخوذ ہے۔