سنن ابي داود
كتاب المناسك— کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل
باب الصَّلاَةِ بِمِنًى باب: منیٰ میں نماز کا بیان۔
حدیث نمبر: 1964
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، " أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ أَتَمَّ الصَّلَاةَ بِمِنًى مِنْ أَجْلِ الْأَعْرَابِ لِأَنَّهُمْ كَثُرُوا عَامَئِذٍ فَصَلَّى بِالنَّاسِ أَرْبَعًا لِيُعَلِّمَهُمْ أَنَّ الصَّلَاةَ أَرْبَعٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´زہری سے روایت ہے کہ` عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں نماز اس وجہ سے پوری پڑھی کہ اس سال بدوی لوگ بہت آئے تھے تو انہوں نے چار رکعتیں پڑھیں تاکہ ان لوگوں کو معلوم ہو کہ نماز ( اصل میں ) چار رکعت ہی ہے ( نہ کہ دو ، جو قصر کی صورت میں پڑھی جاتی ہے ) ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´منیٰ میں نماز کا بیان۔`
زہری سے روایت ہے کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں نماز اس وجہ سے پوری پڑھی کہ اس سال بدوی لوگ بہت آئے تھے تو انہوں نے چار رکعتیں پڑھیں تاکہ ان لوگوں کو معلوم ہو کہ نماز (اصل میں) چار رکعت ہی ہے (نہ کہ دو، جو قصر کی صورت میں پڑھی جاتی ہے)۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1964]
زہری سے روایت ہے کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں نماز اس وجہ سے پوری پڑھی کہ اس سال بدوی لوگ بہت آئے تھے تو انہوں نے چار رکعتیں پڑھیں تاکہ ان لوگوں کو معلوم ہو کہ نماز (اصل میں) چار رکعت ہی ہے (نہ کہ دو، جو قصر کی صورت میں پڑھی جاتی ہے)۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1964]
1964. اردو حاشیہ: یہ چاروں آثار ضعیف ہے۔ اس لیے حضرت عثمان کےمنی ٰ میں پوری نماز پڑھنے کی وجہ صرف مسافر کے لیے قصر کی بجائے پوری نماز پڑھنے کا جواز ہے۔ اس کے علاوہ اور کوئی وجہ نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1964 سے ماخوذ ہے۔