حدیث نمبر: 1964
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، " أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ أَتَمَّ الصَّلَاةَ بِمِنًى مِنْ أَجْلِ الْأَعْرَابِ لِأَنَّهُمْ كَثُرُوا عَامَئِذٍ فَصَلَّى بِالنَّاسِ أَرْبَعًا لِيُعَلِّمَهُمْ أَنَّ الصَّلَاةَ أَرْبَعٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´زہری سے روایت ہے کہ` عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں نماز اس وجہ سے پوری پڑھی کہ اس سال بدوی لوگ بہت آئے تھے تو انہوں نے چار رکعتیں پڑھیں تاکہ ان لوگوں کو معلوم ہو کہ نماز ( اصل میں ) چار رکعت ہی ہے ( نہ کہ دو ، جو قصر کی صورت میں پڑھی جاتی ہے ) ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1964
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, انظر الحديثين السابقين (1961 و 1962), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 75
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود (حسن لغیرہ) » (سند میں زہری اور عثمان رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، لیکن دوسرے متصل طریق سے تقویت پا کر یہ حدیث حسن ہوئی، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود 6؍ 206)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´منیٰ میں نماز کا بیان۔`
زہری سے روایت ہے کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں نماز اس وجہ سے پوری پڑھی کہ اس سال بدوی لوگ بہت آئے تھے تو انہوں نے چار رکعتیں پڑھیں تاکہ ان لوگوں کو معلوم ہو کہ نماز (اصل میں) چار رکعت ہی ہے (نہ کہ دو، جو قصر کی صورت میں پڑھی جاتی ہے)۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1964]
1964. اردو حاشیہ: یہ چاروں آثار ضعیف ہے۔ اس لیے حضرت عثمان کےمنی ٰ میں پوری نماز پڑھنے کی وجہ صرف مسافر کے لیے قصر کی بجائے پوری نماز پڑھنے کا جواز ہے۔ اس کے علاوہ اور کوئی وجہ نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1964 سے ماخوذ ہے۔