سنن ابي داود
كتاب المناسك— کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل
باب يَبِيتُ بِمَكَّةَ لَيَالِيَ مِنًى باب: منیٰ کی راتوں کو مکہ میں گزارنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1958
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي حَرِيزٌ ، أَوْ أَبُو حَرِيزٍ الشَّكّ مِنْ يَحْيَى ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ فَرُّوخٍ يَسْأَلُ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ : " إِنَّا نَتَبَايَعُ بِأَمْوَالِ النَّاسِ فَيَأْتِي أَحَدُنَا مَكَّةَ فَيَبِيتُ عَلَى الْمَالِ ؟ فَقَالَ : أَمَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَاتَ بِمِنًى وَظَلَّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حریز یا ابوحریز بیان کرتے ہیں کہ` انہوں نے عبدالرحمٰن بن فروخ کو ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھتے ہوئے سنا ، وہ کہہ رہے تھے کہ ہم لوگوں کا مال بیچتے ہیں تو کیا ہم میں سے کوئی منیٰ کی راتوں میں مکہ میں جا کر مال کے پاس رہے ؟ انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو رات اور دن دونوں منیٰ میں رہا کرتے تھے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس لئے مکہ میں رات گزارنی خلاف سنت اور ناجائز ہے، بعض علماء کے یہاں صرف شدید ضرورت کے وقت اس کی اجازت ہے۔