حدیث نمبر: 1943
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَخْبَرَنِي مُخْبِرٌ ، عَنْ أَسْمَاءَ ، " أَنَّهَا رَمَتِ الْجَمْرَةَ ، قُلْتُ : إِنَّا رَمَيْنَا الْجَمْرَةَ بِلَيْلٍ ، قَالَتْ : إِنَّا كُنَّا نَصْنَعُ هَذَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` انہوں نے جمرہ کو کنکریاں ماریں ، مخبر ( راوی حدیث ) کہتے ہیں : میں نے عرض کیا : ہم نے رات ہی کو جمرے کو کنکریاں مار لیں ، انہوں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ایسا ہی کیا کرتے تھے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1943
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, المخبر ومولي أسماء: عبد الله بن كيسان التيمي
تخریج حدیث « سنن النسائی/الحج 214 (3053)، ( تحفة الأشراف: 15737)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 98 (1679)، صحیح مسلم/الحج 49 (1291)، موطا امام مالک/الحج 56 (172)، مسند احمد (6/347، 351) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´مزدلفہ سے منیٰ جلدی واپس لوٹ جانے کا بیان۔`
اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے جمرہ کو کنکریاں ماریں، مخبر (راوی حدیث) کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: ہم نے رات ہی کو جمرے کو کنکریاں مار لیں، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1943]
1943. اردو حاشیہ: مذکورہ دونوں روایتوں میں سورج طلوع ہونے سے قبل کنکریاں مارنے کا ذکر ہے۔اس کی بابت صاحب عون لکھتے ہیں کہ یہ صرف عورتوں بچوں اور ان کے غلاموں کے لیے ہے جو ان کی خدمت کے لیے ہوں۔ ان کے علاوہ دس ذوالحجہ کو کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ طلوع فجر سے پہلے کنکریاں مارے جیسا کہ صحیح احادیث سے ثابت ہے۔واللہ اعلم .
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1943 سے ماخوذ ہے۔