حدیث نمبر: 194
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ ، عَنْ الْأَغَرِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْوُضُوءُ مِمَّا أَنْضَجَتِ النَّارُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آگ پر پکی ہوئی چیز کے کھانے سے وضو ہے “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: یہ حکم پہلے تھا بعد میں منسوخ ہو گیا، ناسخ احادیث پہلے گزر چکی ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 194
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 13470)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الطہارة 23 (352)، سنن الترمذی/الطھارة 58 (79)، سنن النسائی/الطھارة 122 (171، 172، 173، 174)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 65 (485)، مسند احمد (2/458، 503، 529) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 493 | صحيح ابن خزيمه: 42

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´آگ پر پکی ہوئی چیز کے کھانے سے وضو`
«. . . عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْوُضُوءُ مِمَّا أَنْضَجَتِ النَّارُ . . .»
". . . ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "آگ پر پکی ہوئی چیز کے کھانے سے وضو ہے . . ." [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 194]
فوائد و مسائل:
آگ پر پکی چیزوں سے وضو ابتدائے اسلام کا حکم تھا جو کہ منسوخ ہو گیا جیسے کہ پچھلی حدیث میں مذکور ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 194 سے ماخوذ ہے۔