حدیث نمبر: 1935
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَيَّاشٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : " فَلَمَّا أَصْبَحَ ، يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَوَقَفَ عَلَى قُزَحَ ، فَقَالَ : هَذَا قُزَحُ وَهُوَ الْمَوْقِفُ وَ جَمْعٌ كُلُّهَا مَوْقِفٌ ، وَنَحَرْتُ هَا هُنَا وَ مِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ ، فَانْحَرُوا فِي رِحَالِكُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ( مزدلفہ میں ) جب آپ نے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی تو آپ قزح میں کھڑے ہوئے اور فرمایا : ” یہ قزح ہے اور یہ موقف ( ٹھہرنے کی جگہ ) ہے ، اور مزدلفہ پورا موقف ( ٹھہرنے کی جگہ ) ہے ، میں نے یہاں نحر کیا ہے اور منیٰ پورا نحر کرنے کی جگہ ہے لہٰذا تم اپنے اپنے ٹھکانوں میں نحر کر لو “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1935
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (885) ابن ماجه (3010), سفيان الثوري عنعن, وانظر الحديث السابق : 1922, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 75
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الحج 54 (885)، سنن ابن ماجہ/المناسک 55 (3010)، ( تحفة الأشراف: 10229) (حسن صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 885

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 885 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´پورا عرفات ٹھہرنے کی جگہ ہے۔`
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات میں قیام کیا اور فرمایا: یہ عرفہ ہے، یہی وقوف (ٹھہرنے) کی جگہ ہے، عرفہ (عرفات) کا پورا ٹھہرنے کی جگہ ہے، پھر آپ جس وقت سورج ڈوب گیا تو وہاں سے لوٹے۔ اسامہ بن زید کو پیچھے بٹھایا، اور آپ اپنی عام رفتار سے چلتے ہوئے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر رہے تھے، اور لوگ دائیں بائیں اپنے اونٹوں کو مار رہے تھے، آپ ان کی طرف متوجہ ہو کر کہتے جاتے تھے: لوگو! سکون و وقار کو لازم پکڑو ، پھر آپ مزدلفہ آئے اور لوگوں کو دونوں نمازیں (مغرب اور عشاء قصر کر کے) ایک ساتھ پڑھائیں، جب صبح ہو۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 885]
اردو حاشہ:
1؎:
مزدلفہ میں ایک پہاڑ کا نام ہے۔

2؎:
منیٰ اور مزدلفہ کے درمیان ایک وادی ہے جس میں اصحاب فیل پر عذاب آیا تھا۔

3؎:
یعنی: مجھے اندیشہ ہوا کہ فضل جب نوجوان لڑکی کی طرف سے ملتفت تھے، شیطان ان کو بہکا نہ دے۔

4؎:
حاجی کو دسویں ذوالحجہ میں چار کام کرنے پڑتے ہیں۔ 1-جمرہ عقبیٰ کی رمی۔
2- نحر ہدی (جانور ذبح کرنا)
3- حلق یا قصر۔
4- طواف افاضہ۔

ان چاروں میں ترتیب افضل ہے، اور اگر کسی وجہ سے ترتیب قائم نہ رہ سکے تو اس سے دم لازم نہیں ہو گا اور نہ ہی حج میں کوئی حرج واقع ہو گا جب کہ بعض نے کہا کہ حرج تو کچھ نہیں ہو گا لیکن دم لازم آئے گا۔
مگر اُن کے پاس نص صریح میں سے کوئی دلیل نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 885 سے ماخوذ ہے۔