حدیث نمبر: 1930
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ يُوسُفَ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَا : " صَلَّيْنَا مَعَ ابْنِ عُمَرَ بِالْمُزْدَلِفَةِ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ ، فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ كَثِيرٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سعید بن جبیر اور عبداللہ بن مالک سے روایت ہے` وہ دونوں کہتے ہیں : ہم نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مزدلفہ میں مغرب و عشاء ایک اقامت سے پڑھیں ، پھر راوی نے ابن کثیر کی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1930
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح بالزيادة المذكورة آنفا , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1288)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/ الحج 47 (1288)، سنن الترمذی/ الحج 56 (888)، سنن النسائی/ الحج 207 (3033)، ( تحفة الأشراف: 7052)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/280، 2/2، 3، 33، 59، 62، 79، 81) (صحیح) » (اس میں قاضی شریک بن عبداللہ ضعیف ہیں، لیکن ان کی متابعت موجود ہے، اذان اور ہر صلاة میں اقامت کے اثبات کے ساتھ جیسے تفصیل گزری)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´مزدلفہ میں نماز پڑھنے کا بیان۔`
سعید بن جبیر اور عبداللہ بن مالک سے روایت ہے وہ دونوں کہتے ہیں: ہم نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مزدلفہ میں مغرب و عشاء ایک اقامت سے پڑھیں، پھر راوی نے ابن کثیر کی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1930]
1930. اردو حاشیہ: اس روایت میں بھی ایک تکبیر کے ساتھ دو نمازیں پڑھنے کازکر ہے۔جو کہ صحیح نہیں ہے شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ اس روایت کی بابت لکھتے ہیں کہ یہ روایت (لکل صلاۃ) (ہر نماز کے لئے الگ تکبیر کہی) کے اضافے کے ساتھ صحیح ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1930 سے ماخوذ ہے۔