سنن ابي داود
كتاب المناسك— کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل
باب الصَّلاَةِ بِجَمْعٍ باب: مزدلفہ میں نماز پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1928
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ . ح وحَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ الْمَعْنَى ، أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِإِسْنَادِ ابْنِ حَنْبَلٍ ، عَنْ حَمَّادٍ وَمَعْنَاهُ ، قَالَ : " بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ لِكُلِّ صَلَاةٍ ، وَلَمْ يُنَادِ فِي الْأُولَى وَلَمْ يُسَبِّحْ عَلَى إِثْرِ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا " ، قَالَ مَخْلَدٌ : " لَمْ يُنَادِ فِي وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی زہری سے ابن حنبل کی سند سے انہوں نے حماد سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے` اس میں ہے : ہر نماز کے لیے ایک الگ اقامت کہی اور پہلی نماز کے لیے اذان نہیں دی اور نہ ان دونوں میں سے کسی کے بعد نفل پڑھی ۔ مخلد کہتے ہیں : ان دونوں میں سے کسی نماز کے لیے اذان نہیں دی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´مزدلفہ میں نماز پڑھنے کا بیان۔`
اس سند سے بھی زہری سے ابن حنبل کی سند سے انہوں نے حماد سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے اس میں ہے: ہر نماز کے لیے ایک الگ اقامت کہی اور پہلی نماز کے لیے اذان نہیں دی اور نہ ان دونوں میں سے کسی کے بعد نفل پڑھی۔ مخلد کہتے ہیں: ان دونوں میں سے کسی نماز کے لیے اذان نہیں دی۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1928]
اس سند سے بھی زہری سے ابن حنبل کی سند سے انہوں نے حماد سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے اس میں ہے: ہر نماز کے لیے ایک الگ اقامت کہی اور پہلی نماز کے لیے اذان نہیں دی اور نہ ان دونوں میں سے کسی کے بعد نفل پڑھی۔ مخلد کہتے ہیں: ان دونوں میں سے کسی نماز کے لیے اذان نہیں دی۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1928]
1928. اردو حاشیہ: علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں۔کہ یہ روایت صحیح ہے۔البتہ(لم یناد۔۔۔) کے الفاظ صحیح نہیں ہیں۔اس لیے کہ ایک مرتبہ تو اذان دی گئی بنا بریں اذان کی نفی صحیح نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1928 سے ماخوذ ہے۔