حدیث نمبر: 1916
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ نُبَيْطٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْحَيِّ ، عَنْ أَبِيهِ نُبَيْطٍ ، أَنَّهُ " رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا بِعَرَفَةَ عَلَى بَعِيرٍ أَحْمَرَ يَخْطُبُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´نبیط بن شریط رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عرفات میں سرخ اونٹ پر کھڑے ہو کر خطبہ دیتے دیکھا ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1916
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, نسائي (3010) ابن ماجه (1286), رجل من الحي مجھول, والحديث الآتي (الأصل : 1917) يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 74
تخریج حدیث « سنن النسائی/الحج 198 (3010)، 199 (3011)، (تحفة الأشراف: 11589)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 158(1286)، مسند احمد (4/ 305، 306) (صحیح) » (مؤلف کے علاوہ دوسروں کے یہاں سند میں «عن رجل» کا اضافہ نہیں ہے اور سلمہ کا اپنے والد سے سماع ثابت ہے اس لئے یہ حدیث صحیح ہے)
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 1286 | سنن نسائي: 3010 | سنن نسائي: 3011

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1286 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´عیدین میں خطبے کا بیان۔`
نبیط رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے حج کیا اور کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اونٹ پہ خطبہ دیتے ہوئے دیکھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1286]
اردو حاشہ:
فائده:
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے ضعیف قرار دیا ہے اور مزید لکھا ہے کہ اس حدیث کے بعض حصے کے شواہد ابو داؤد میں ہیں۔
تاہم دیگر محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
تفصیل کے لئے دیکھئے: (الموسوعة الحدیثیة، مسند الإمام أحمد بن حنبل: 19، 18/31 وسنن ابن ماجة للدکتور بشار عواد، حدیث: 1286)
بنابریں روایت میں مذکور مسئلہ فی نفسہ درست ہے۔
واللہ أعلم
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1286 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3010 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´عرفات میں نماز سے پہلے خطبہ دینے کا بیان۔`
نبیط رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرفہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز سے پہلے ایک سرخ اونٹ پر سوار ہو کر خطبہ دیتے دیکھا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3010]
اردو حاشہ:  یہ روایت شواہد کی بنا پر صحیح ہے اور مسئلہ متفق علیہ ہے کہ خطبہ پہلے ہوگا، پھر ظہر اور عصر کی نمازیں جمع کر کے پڑھی جائیں گی۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3010 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3011 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´عرفہ کے دن اونٹنی پر سوار ہو کر خطبہ دینے کا بیان۔`
نبیط رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عرفہ کے دن سرخ اونٹ پر سوار ہو کر خطبہ دیتے دیکھا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3011]
اردو حاشہ: مجمع زیادہ ہو تو آواز سب تک پہنچانے کے لیے کسی اونچی چیز پر چڑھ کر خطبہ دینا ضرورت ہے۔ رسول اللہﷺ نے حجۃ الوداع تقریباً پورے کا پورا اونٹ پر سوار ہو کر سر انجام دیا تھا تاکہ لوگ آپ کو دیکھ کر مناسک حج سیکھ سکیں۔ خطبے میں تو بدرجہ اولیٰ اونٹ پر سوار ہونے کی ضرورت ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3011 سے ماخوذ ہے۔