حدیث نمبر: 1904
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ جُمْهَانَ ، أَنَّ رَجُلًا ، قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بَيْنَ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةِ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، إِنِّي أَرَاكَ تَمْشِي وَالنَّاسُ يَسْعَوْنَ ، قَالَ : " إِنْ أَمْشِ ، فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي ، وَإِنْ أَسْعَ ، فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْعَى ، وَأَنَا شَيْخٌ كَبِيرٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´کثیر بن جمہان سے روایت ہے کہ` صفا و مروہ کے درمیان عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک شخص نے پوچھا : ابوعبدالرحمٰن ! میں آپ کو ( عام چال چلتے ) دیکھتا ہوں جب کہ لوگ دوڑتے ہیں ؟ انہوں نے کہا : اگر میں عام چال چلتا ہوں تو اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عام چال چلتے دیکھا ہے اور اگر میں دوڑ کر کرتا ہوں تو اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سعی ( دوڑتے ) کرتے دیکھا ہے اور میں بہت بوڑھا شخص ہوں ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1904
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, زھير بن معاوية سمع من عطاء بن السائب قبل اختلاطه وكثير بن جمھان حسن الحديث وثقه الجمھور
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الحج 39 (864)، سنن النسائی/الحج 174 (2979)، سنن ابن ماجہ/المناسک 43 (2988)، ( تحفة الأشراف: 7373، 7379)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/53) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 2979 | سنن ابن ماجه: 2988

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´صفا اور مروہ کا بیان۔`
کثیر بن جمہان سے روایت ہے کہ صفا و مروہ کے درمیان عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک شخص نے پوچھا: ابوعبدالرحمٰن! میں آپ کو (عام چال چلتے) دیکھتا ہوں جب کہ لوگ دوڑتے ہیں؟ انہوں نے کہا: اگر میں عام چال چلتا ہوں تو اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عام چال چلتے دیکھا ہے اور اگر میں دوڑ کر کرتا ہوں تو اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سعی (دوڑتے) کرتے دیکھا ہے اور میں بہت بوڑھا شخص ہوں۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1904]
1904. اردو حاشیہ: یعنی صفا مروہ کے درمیان سعی کرنا (دوڑنا)چاہیے۔لیکن اگر کوئی بیماری یا شدید بڑھاپے کی وجہ سے دوڑ نہ سکے تو اس کے لئے چلنا بھی کفایت کرجائے گا۔واللہ اعلم۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1904 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2988 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´صفا اور مروہ کے درمیان سعی کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اگر میں صفا اور مروہ کے درمیان دوڑوں تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دوڑتے ہوئے دیکھا ہے، اور اگر میں عام چال چلوں تو میں نے آپ کو ایسا بھی چلتے دیکھا ہے، اور میں بہت بوڑھا ہوں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2988]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
صفاء اور مروہ کے درمیان سعی کے دوران میں وادی میں (سبز نشانوں کے درمیان)
دوڑنا سنت ہے۔

(2)
اگر کوئی شخص بڑھاپے یا بیماری یا کمزوری کی وجہ سے دوڑ نہ سکے تو عام رفتار سے بھی سعی کا فرض ادا کرسکتا ہے۔

(3)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بڑھاپے کا ذکر کرکے اپنا عذر واضح کیا ہے۔
اس میں اشارہ ہے کہ عذر نہ ہوتو دوڑنا ہی چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2988 سے ماخوذ ہے۔