سنن ابي داود
كتاب المناسك— کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل
باب أَمْرِ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ باب: صفا اور مروہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 1903
حَدَّثَنَا تَمِيمُ بْنُ الْمُنْتَصِرِ ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى ، بِهَذَا الْحَدِيثِ ، زَادَ : " ثُمَّ أَتَى الصَّفَا وَ الْمَرْوَةَ فَسَعَى بَيْنَهُمَا سَبْعًا ثُمَّ حَلَقَ رَأْسَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے` البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے : پھر آپ صفا و مروہ آئے اور ان کے درمیان سات بار سعی کی ، پھر اپنا سر منڈایا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´صفا اور مروہ کا بیان۔`
اس سند سے بھی عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے: پھر آپ صفا و مروہ آئے اور ان کے درمیان سات بار سعی کی، پھر اپنا سر منڈایا۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1903]
اس سند سے بھی عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے: پھر آپ صفا و مروہ آئے اور ان کے درمیان سات بار سعی کی، پھر اپنا سر منڈایا۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1903]
1903. اردو حاشیہ: علامہ البانی رحمہ اللہ کہتے ہیں۔کہ اس حدیث میں سر منڈانے کا بیان صحیح نہیں اس عمرے میں آپ کابال کتروانا ثابت ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1903 سے ماخوذ ہے۔