حدیث نمبر: 1903
حَدَّثَنَا تَمِيمُ بْنُ الْمُنْتَصِرِ ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى ، بِهَذَا الْحَدِيثِ ، زَادَ : " ثُمَّ أَتَى الصَّفَا وَ الْمَرْوَةَ فَسَعَى بَيْنَهُمَا سَبْعًا ثُمَّ حَلَقَ رَأْسَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے بھی عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے` البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے : پھر آپ صفا و مروہ آئے اور ان کے درمیان سات بار سعی کی ، پھر اپنا سر منڈایا ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1903
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح دون الحلق , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, شريك القاضي عنعن وتفرد بقوله ’’ ثم حلق رأسه ‘‘ وباقي الحديث صحيح, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 74
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، ( تحفة الأشراف: 5155، 5156) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´صفا اور مروہ کا بیان۔`
اس سند سے بھی عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے: پھر آپ صفا و مروہ آئے اور ان کے درمیان سات بار سعی کی، پھر اپنا سر منڈایا۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1903]
1903. اردو حاشیہ: علامہ البانی رحمہ اللہ کہتے ہیں۔کہ اس حدیث میں سر منڈانے کا بیان صحیح نہیں اس عمرے میں آپ کابال کتروانا ثابت ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1903 سے ماخوذ ہے۔