سنن ابي داود
كتاب المناسك— کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل
باب الْمُلْتَزَمِ باب: ملتزم کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " طُفْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ ، فَلَمَّا جِئْنَا دُبُرَ الْكَعْبَةِ ، قُلْتُ : أَلَا تَتَعَوَّذُ ؟ قَالَ : نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ ، ثُمَّ مَضَى حَتَّى اسْتَلَمَ الْحَجَرَ وَأَقَامَ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْبَابِ فَوَضَعَ صَدْرَهُ وَوَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ وَكَفَّيْهِ هَكَذَا وَبَسَطَهُمَا بَسْطًا ، ثُمَّ قَالَ : هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ " .
´شعیب بن محمد بن عبداللہ بن عمرو بن العاص کہتے ہیں کہ` میں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے ساتھ طواف کیا ، جب ہم لوگ کعبہ کے پیچھے آئے تو میں نے کہا : کیا آپ پناہ نہیں مانگیں گے ؟ اس پر انہوں نے کہا : ہم پناہ مانگتے ہیں اللہ کی آگ سے ، پھر وہ آگے بڑھتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے حجر اسود کا استلام کیا ، اور حجر اسود اور کعبہ کے دروازے کے درمیان کھڑے رہے اور اپنا سینہ ، اپنے دونوں ہاتھ اپنی دونوں ہتھیلیاں اس طرح رکھیں اور انہوں نے انہیں پوری طرح پھیلایا ، پھر بولے : اسی طرح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا ہے ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
شعیب بن محمد بن عبداللہ بن عمرو بن العاص کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے ساتھ طواف کیا، جب ہم لوگ کعبہ کے پیچھے آئے تو میں نے کہا: کیا آپ پناہ نہیں مانگیں گے؟ اس پر انہوں نے کہا: ہم پناہ مانگتے ہیں اللہ کی آگ سے، پھر وہ آگے بڑھتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے حجر اسود کا استلام کیا، اور حجر اسود اور کعبہ کے دروازے کے درمیان کھڑے رہے اور اپنا سینہ، اپنے دونوں ہاتھ اپنی دونوں ہتھیلیاں اس طرح رکھیں اور انہوں نے انہیں پوری طرح پھیلایا، پھر بولے: اسی طرح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1899]
شعیب کہتے ہیں کہ میں نے (اپنے دادا) عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کے ساتھ طواف کیا، جب ہم سات پھیروں سے فارغ ہوئے، تو ہم نے کعبہ کے پیچھے طواف کی دو رکعتیں ادا کیں، میں نے کہا: کیا ہم جہنم سے اللہ تعالیٰ کی پناہ نہ چاہیں؟ انہوں نے کہا: میں جہنم سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں، شعیب کہتے ہیں: پھر عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے چل کر حجر اسود کا استلام کیا، پھر حجر اسود اور باب کعبہ کے درمیان کھڑے ہوئے، اور اپنا سینہ، دونوں ہاتھ اور چہرے کو اس سے چمٹا دیا، پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی کرتے دیکھا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2962]
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے مگر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ عروہ بن زبیر اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے عمل سے صحیح ثابت ہے۔
شیخ البانی ؒ نے غالباً اسی وجہ سے مذکورہ روایت کو حسن قرار دیا ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیے: (الصحيحة رقم: 2138 ومناسك الحج والعمرة للألباني ص: 22)
(2)
طواف کی دو رکعتیں پڑھ کر اپنے لیے اور اپنے عزیزوں دوستوں کے لیے کوئی مناسب دعا مانگی جا سکتی ہے جیسے حضرت شعیب بن محمد ؒ اور حضرت عبداللہ بن عمرورضی اللہ عنہ نے جہنم سے محفوظ رہنے کی دعا مانگی۔
(3)
حجر اسود اور کعبہ کے درمیان کی جگہ ملتزم کہلاتی ہے۔
اس جگہ کعبہ شریف کی عمارت سے سینہ اور چہرہ لگانا مسنون ہے تاہم بھیڑ کے وقت دھکم پیل سے پرہیز کرنا چاہیے۔
(4)
کعبہ شریف کی عمارت سے اس طرح لپٹنا صرف ملتزم کے مقام پر مسنون ہے۔
کعبہ کے دوسرے حصوں سے اس طرح لپٹنا مسنون نہیں۔