سنن ابي داود
كتاب المناسك— کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل
باب طَوَافِ الْقَارِنِ باب: قران کرنے والے کے طواف کا بیان۔
حدیث نمبر: 1896
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِينَ كَانُوا مَعَهُ لَمْ يَطُوفُوا حَتَّى رَمَوْا الْجَمْرَةَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے جو آپ کے ساتھ تھے ، اس وقت تک طواف نہیں کیا جب تک کہ ان لوگوں نے رمی جمار نہیں کر لیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´قران کرنے والے کے طواف کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے جو آپ کے ساتھ تھے، اس وقت تک طواف نہیں کیا جب تک کہ ان لوگوں نے رمی جمار نہیں کر لیا۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1896]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے جو آپ کے ساتھ تھے، اس وقت تک طواف نہیں کیا جب تک کہ ان لوگوں نے رمی جمار نہیں کر لیا۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1896]
1896. اردو حاشیہ: یہ روایت گزشتہ حدیث (1781) کا ایک حصہ ہے۔اور اس سے مُراد بیت اللہ کاطواف ہے۔جوقرآن والوں نے کیا تھا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1896 سے ماخوذ ہے۔