حدیث نمبر: 1892
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ : " رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دونوں رکن ( یعنی رکن یمانی اور حجر اسود ) کے درمیان «ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار» ( سورۃ البقرہ : ۹۶ ) کہتے سنا ، ” اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما ، اور آخرت میں بھی ، اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا لے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1892
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (2581), أخرجه أحمد (3/411) والنسائي في الكبريٰ (3943) وصححه ابن خزيمة (2721 وسنده حسن) ابن جريج صرح بالسماع
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: 5316)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری/ الحج (3934)، مسند احمد (3/411) (حسن) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´طواف میں دعا کرنے کا بیان۔`
عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دونوں رکن (یعنی رکن یمانی اور حجر اسود) کے درمیان «ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار» (سورۃ البقرہ: ۹۶) کہتے سنا، " اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما، اور آخرت میں بھی، اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا لے۔‏‏‏‏" [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1892]
1892. اردو حاشیہ: طواف میں رسول اللہ ﷺ سے یہی دعا صحیح ثابت ہے۔علاوہ ازیں جو چاہے دعا کرسکتا ہے مگر ہر چکر کے لئے الگ الگ مخصوص دعا نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1892 سے ماخوذ ہے۔