حدیث نمبر: 1888
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا جُعِلَ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةِ وَرَمْيُ الْجِمَارِ لِإِقَامَةِ ذِكْرِ اللَّهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیت اللہ کا طواف کرنا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنا اور کنکریاں مارنا ، یہ سب اللہ کی یاد قائم کرنے کے لیے مقرر کئے گئے ہیں “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1888
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, أخرجه الترمذي (902 وسنده حسن) وصححه ابن خزيمة (2882، 2970 وسندھما حسن)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الحج 64 (902)، ( تحفة الأشراف: 17533)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/64، 75، 138)، سنن الدارمی/المناسک 36 (1895) (ضعیف) » (اس کے راوی عبیداللہ ضعیف ہیں)
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 902

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 902 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´جمرات کی رمی کیسے کی جائے؟`
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جمرات کی رمی اور صفا و مروہ کی سعی اللہ کے ذکر کو قائم کرنے کے لیے شروع کی گئی ہے۔‏‏‏‏" [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 902]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(اس کے راوی ’’عبیداللہ بن ابی زیاد‘‘ ضعیف ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 902 سے ماخوذ ہے۔