حدیث نمبر: 1880
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " طَافَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَى رَاحِلَتِهِ بِالْبَيْتِ وَ بِالصَّفَا وَ الْمَرْوَةِ لِيَرَاهُ النَّاسُ وَلِيُشْرِفَ وَلِيَسْأَلُوهُ فَإِنَّ النَّاسَ غَشُوهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اپنی سواری پر بیٹھ ہو کر بیت اللہ کا طواف کیا ، اور صفا و مروہ کی سعی کی ، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بلندی پر ہوں ، اور لوگ آپ کو دیکھ سکیں ، اور آپ سے پوچھ سکیں ، کیونکہ لوگوں نے آپ کو گھیر رکھا تھا ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1880
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1273)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الحج 42 (1273)، سنن النسائی/الحج 173 (2978)، ( تحفة الأشراف: 2803)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/317، 334) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 1273 | سنن نسائي: 2978 | سنن نسائي: 2986

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 2978 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´صفا و مروہ کے درمیان سواری پر سعی کرنے کا بیان۔`
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اپنی سواری پر بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کی، (اور ایسا اس لیے کیا) تاکہ لوگ آپ کو دیکھ سکیں اور آپ لوگوں سے اونچائی پر رہیں اور تاکہ لوگ مسئلے مسائل پوچھ سکیں کیونکہ لوگوں نے آپ کو ڈھانپ لیا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2978]
اردو حاشہ: اس سے معلوم ہوا کہ ضرورت کے پیش نظر طواف پیدل کرنے کی بجائے سواری پر کیا جا سکتا ہے۔ جیسے بوڑھے اور بیمار قسم کے افراد۔ اسی طرح تعلیم مقاصد وغیرہ کے لیے سواری استعمال کی جا سکتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2978 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 2986 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´صفا و مروہ میں رمل کرنے کی جگہ کا بیان۔`
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفا سے نیچے اترے یہاں تک کہ جب آپ کے قدم وادی کے نشیب میں پہنچے تو آپ نے رمل کیا، اور جب چڑھائی پر پہنچے تو عام رفتار سے چلے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2986]
اردو حاشہ: فوائد کے لیے دیکھیے، حدیث: 2984۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2986 سے ماخوذ ہے۔